بین الاقوامی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے اتوار کو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے یقین دلایا کہ آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP
اشتہار
بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ اور پاکستانی وزیر اعظم کے مابین یہ ملاقات دبئی میں ہونے والی ’ورلڈ گورنمنٹ سمٹ‘ کے حاشیے میں ہوئی۔ یہ اجلاس آئی ایم ایف اور متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں منقعد ہو رہا ہے۔
لاگارڈ نے عمران خان سے ملاقات کے بعد کہا، ’’میں نے یہ بات دہرائی ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کےساتھ تعاون کرنے پر تیار ہے۔‘‘ آئی ایم ایف کے ایک وفد نے ابھی نومبر میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس کا مقصد اسلام آباد حکومت کے لیے کسی ممکنہ بیل آؤٹ پیکج کے موضوع پر بات کرنا تھا۔ تاہم یہ بات چیت کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ہی ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد حکومتی اہلکار وں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
1980ء کی دہائی سے پاکستان اپنی مالی مشکلات دور کرنے کے لیے تواتر کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے پاس جاتا رہا ہے اور ساتھ ہی اسے ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا سامنا بھی ہے۔
لاگارڈ نے مزید کہا، ’’میں نے اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ فیصلہ کن پالیسیاں اور اقتصادی شعبے میں اصلاحات کے ذریعے ہی پاکستان اپنی معیشت پر اعتماد بحال کر سکتا ہے اور اس طرح مضبوط اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔‘‘
پاکستان نے آخری مرتبہ آئی ایم ایف سے 2013ء میں 6.6 ارب ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں رواں برس جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران اقتصادی نمو4.0 اور 4.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 5.8 فیصد تھی۔
عمران خان نے گزشتہ برس برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی بڑے زور و شور کے ساتھ کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا۔ اس دوران انہوں نے حکومت کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کو اور وزیراعظم ہاؤس میں موجود بھینسوں کو نیلام کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے دوست ممالک سے قرضہ لینے کی بھی مہم شروع کی تاکہ آئی ایم ایف کی ادائیگیوں کو ممکن بنایا جائے۔
ع ا / ع آ (اے ایف پی)
کس ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کتنے ہیں؟
آئی ایم ایف اور سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بُک کے جمع کردہ اعداد و شمار میں دنیا کے مختلف ممالک کے مرکزی مالیاتی اداروں کے پاس موجود مجموعی غیر ملکی زر مبادلہ اور سونے کے ذخائر کا تخمینہ امریکی ڈالرز میں لگایا گیا ہے۔
تصویر: FARS
1۔ چین
اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر چین ہے۔ دی ورلڈ فیکٹ بُک کے مطابق گزشتہ برس کے اختتام تک چین کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ اور سونے کے زخائر کی مالیت تین ہزار دو سو بلین (بتیس لاکھ ملین) امریکی ڈالر سے زائد تھی۔
تصویر: Imago/PPE
2۔ جاپان
جاپان اس فہرست میں بارہ سو چونسٹھ بلین ( یا بارہ لاکھ ملین) ڈالر مالیت کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جو کہ چین کی نسبت بیس لاکھ ملین ڈالر کم ہے۔
تصویر: Imago/blickwinkel
3۔ سوئٹزرلینڈ
811 بلین ڈالر مالیت کے برابر غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے ساتھ سوئٹزرلینڈ تیسرے نمبر پر ہے۔
اس عالمی درجہ بندی میں سعودی عرب چوتھے نمبر پر ہے۔ گزشتہ برس کے اختتام تک سعودی عرب کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور سونے کی مجموعی مالیت 496 بلین ڈالر کے برابر تھی۔
تصویر: picture-alliance/dpa/T. Brakemeier
5۔ تائیوان
تائیوان 456 بلین ڈالر کے برابر کی مالیت کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/R.B. Tongo
6۔ روس
روس چھٹے نمبر پر ہے، ورلڈ فیکٹ بُک کے مطابق گزشتہ برس کے اختتام تک روسی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 432 بلین ڈالر تھی۔
تصویر: picture-alliance/ITAR-TASS
7۔ ہانگ کانگ
431 بلین ڈالر کی مالیت کے ذخائر کے ساتھ ہانگ کانگ ساتویں نمبر پر ہے۔
تصویر: picture-alliance/Zumapress/L. Chung Ren
8۔ بھارت
بھارت بھی اس عالمی درجہ بندی میں پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔ سونے سمیت بھارتی غیر ملکی زرمبادلہ کی مالیت گزشتہ برس کے آخر تک 409 بلین ڈالر کے مساوی تھی۔
تصویر: Fotolia/Mivr
9۔ جنوبی کوریا
جنوبی کوریا 389 بلین ڈالر کے برابر سونے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ساتھ نویں نمبر پر ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/Choi Jae-ku
10۔ برازیل
374 بلین ڈالر کی مالیت کے غیر ملکی زرمبادلہ اور سونے کے ساتھ برازیل ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے۔
تصویر: Imago/Imagebroker
13۔ جرمنی
جرمنی اس اعتبار سے عالمی سطح پر تیرہویں نمبر پر ہے۔ جرمنی کے غیر ملکی زرمبادلہ اور سونے کی مالیت 200 بلین ڈالر کے برابر بنتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/imageBroker/S. Klein
20۔ امریکا
امریکا اس فہرست میں 123 بلین ڈالر مالیت کے ذخائر کے ساتھ بیسویں نمبر پر ہے۔ امریکا کے بعد ایران کا نمبر آتا ہے جس کے غیر ملکی زرمبادلہ اور سونے کی مالیت 120 بلین ڈالر کے مساوی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
62۔ پاکستان
پاکستان اس درجہ بندی میں باسٹھویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ برس کے اختتام پر پاکستان کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ اور سونے کے ذخائر کی مجموعی مالیت 18.4 بلین ڈالر کے برابر تھی۔