آئی سی سی کا کینیا کےنائب صدر کے خلاف سماعت کا فیصلہ
4 جون 2013
ولیم روٹو کے وکلاء کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں پر ججوں نے غور کیا ہے جس میں وکلاء کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ انصاف کے بھی مفاد میں ہو گا اگر اس مقدمے کی سماعت اس کے اپنے ملک یا ہمسایہ ملک میں کی جائے۔
روٹو اور کینیا کے صدر اُہُورُو کینیاٹا دونوں مشترکہ ٹکٹ پر مارچ میں منتخب ہوئے اور ان پر پانچ سال قبل ہونے والے انتخابات کے بعد تشدد اور خون خرابے کا الزام تھا جس میں بارہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
روٹو کا کہنا تھا کہ اگر انہیں حکم دیا گیا تو وہ ہیگ میں ہونے والی سماعت میں ضرور شرکت کریں گے لیکن ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ شرکت وہ ویڈیو لنک کے ذریعے کریں گے۔
آئی سی سی کے مطابق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ استغاثہ کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کینیا کی عدالتوں کی طرف جانا گواہوں کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
ججوں نے پیر کے روز بتایا کہ روٹو اور ان کے ساتھی براڈکاسٹر Joshua Arap Sang کے کیس کی سماعت اب 28 مئی کے بجائے 10 ستبمر کو شروع کی جائے گی۔ تاکہ انہیں اپنی دفاعی درخواستوں کی تیاری کے لئے وقت مل سکے۔کینیاٹا کا کیس بالکل الگ نوعیت کا ہے جو ابھی کے شیڈول کے مطابق جولائی میں شروع ہوگا۔
گزشتہ ہفتے ادیس ابابا میں افریقی یونین کے سربراہی اجلاس میں رہنماؤں نے آئی سی سی سے اپیل کی ہے کہ ان کیسز کو کینیا کی عدالتوں کے حوالے کیا جائے۔
ایتھوپیا کے صدر Hailemariam Desalegn نے ان عدالتوں کی جانب سے افریقی ممالک کے خلاف برتے جانے والے نسلی تعصب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ عدالتوں کی جانب سے ہمیشہ اس طرح کے الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔
hm/zb(Reuters)