آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن
25 اپریل 2026
استنبول سے ہفتہ 25 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ایران جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے لیےامریکہ اور ایران کے مابین کوئی امن معاہدہ ہو جائے، تو ترکی بھی اس بات پر سنجیدگی سے غور کر سکتا ہے کہ وہ بھی آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بن جائے۔
ہاکان فیدان نے، جو کل جمعہ 24 اپریل کے روز برطانوی دارالحکومت لندن میں تھے، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ حکومت کی نظر میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی ''انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا جانے والا امدادی کام‘‘ ہے، اور ترکی نے اس عمل کے لیے سرگرم بین لااقوامی اتحاد میں اپنی ممکنہ شمولیت کا راستہ کھلا رکھا ہوا ہے۔
ہاکان فیدان کے الفاظ میں، ''انقرہ بھی ان سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم یہ لازمی ہو گا کہ آبنائے ہرمز میں ایسی کارروائیوں سے قبل ایران جنگ میں کوئی حتمی امن ڈیل طے پا جائے۔‘‘
ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے ہمیں ’بلیک میل‘ نہیں کر سکتا، ٹرمپ
ترکی اپنے بطور جنگی فریق دیکھے جانے کے خلاف
ترک وزیر خارجہ فیدان نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ انقرہ ایسی کارروائیوں میں اس صورت میں بالکل شریک نہیں ہو گا، جب یہ خطرہ بھی ہو کہ ترکی کو اس جنگ میں، یا اسی تنازعے میں دوبارہ کسی نئی شدت کی صورت میں، ایک جنگی فریق کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
''ہم اپنے ایسے کسی بھی کردار سے بچنا چاہیں گے، جس کے باعث کسی نئی بحرانی صورت حال میں یہ سمجھا جا سکے کہ انقرہ اس تنازعے میں کسی بھی فریق کی حمایت کر رہا ہے۔‘‘
ایران کے پاس دانشمندی سے فیصلہ کرنے کا موقع ہے، امریکی وزیر دفاع
فیدان کے مطابق ترک حکومت کو توقع ہے کہ ایران جنگ میں ایک ایسا امن معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس میں مذاکرات کے ذریعے پہلے جیسے حالات کی طرف لوٹا جا سکے۔ ایسے حالات جن میں آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی بحری جہازوں کا معمول کے مطابق گزر پہلے کی طرح محفوظ ہو اور ایسا بغیر کسی ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے ممکن ہو۔
آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھول کر پھر بند کر دیا جانا
اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ ایران جنگ کے آغاز کے بعد تہران نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس تنگ سمندری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی گئی تھی کہ جو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی اجازت حاصل نہیں کریں گے، ان کے خلاف عسکری کارروائی ممکن ہو گی۔
لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک
اسی دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔
ایران جنگ میں آٹھ اپریل سے فائر بندی جاری ہے، مگر اب تک نہ تو ایران نے اس آبنائے کو دوبارہ مستقل کھولا ہے اور نہ ہی امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکی بندی ختم کی ہے۔
اس تنازعے میں یہ بھی ہوا تھا کہ ایران نے اس آبنائے کو دوبارہ مکمل کھولنے کا اعلان کر دیا تھا، مگر پھر چند ہی گھنٹے بعد امریکہ پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر اسے دوبارہ بند بھی کر دیا تھا۔
آبنائے ہرمز بحفاظت پار کرانے کے جھوٹے وعدے، دھوکہ دہی کا نیا طریقہ
اب ایران کی شرط یہ ہے کہ امریکی بحریہ پہلے ناکہ بندی ختم کرے، تو ہی اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں امریکی ایرانی امن مذاکرات کا دوسرا دور ممکن ہو سکے گا۔
ادارت: شکور رحیم