1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن

مقبول ملک ڈی پی اے اور اے ایف پی کے ساتھ
25 اپریل 2026

ترک حکومت نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد ترکی بھی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی میں شامل ہو سکتا ہے۔ وزیر خارجہ فیدان نے کہا کہ انقرہ اس سلسلے میں بین الاقوامی کارروائیوں میں شمولیت پر غور کر سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، دائیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ، استنبول میں تیس جنوری کو لی گئی ایک تصویر
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، دائیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ، استنبول میں تیس جنوری کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Turkish Foreign Ministry/Handout via REUTERS

استنبول سے ہفتہ 25 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ایران جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے لیےامریکہ اور ایران کے مابین کوئی امن معاہدہ ہو جائے، تو ترکی بھی اس بات پر سنجیدگی سے غور کر سکتا ہے کہ وہ بھی آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بن جائے۔

ہاکان فیدان نے، جو کل جمعہ 24 اپریل کے روز برطانوی دارالحکومت لندن میں تھے، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ حکومت کی نظر میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی ''انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا جانے والا امدادی کام‘‘ ہے، اور ترکی نے اس عمل کے لیے سرگرم بین لااقوامی اتحاد میں اپنی ممکنہ شمولیت کا راستہ کھلا رکھا ہوا ہے۔

ہاکان فیدان کے الفاظ میں، ''انقرہ بھی ان سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم یہ لازمی ہو گا کہ آبنائے ہرمز میں ایسی کارروائیوں سے قبل ایران جنگ میں کوئی حتمی امن ڈیل طے پا جائے۔‘‘

ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے ہمیں ’بلیک میل‘ نہیں کر سکتا، ٹرمپ

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور برطانوی خاتون وزیر خارجہ ایویٹ کوپر، جمعرات 23 اپریل کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Murat Gök/Anadolu Agency/IMAGO

ترکی اپنے بطور جنگی فریق دیکھے جانے کے خلاف

ترک وزیر خارجہ فیدان نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ انقرہ ایسی کارروائیوں میں اس صورت میں بالکل شریک نہیں  ہو گا، جب یہ خطرہ بھی ہو کہ ترکی کو اس جنگ میں، یا اسی تنازعے میں دوبارہ کسی نئی شدت کی صورت میں، ایک جنگی فریق کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

''ہم اپنے ایسے کسی بھی کردار سے بچنا چاہیں گے، جس کے باعث کسی نئی بحرانی صورت حال میں یہ سمجھا جا سکے کہ انقرہ اس تنازعے میں کسی بھی فریق کی حمایت کر رہا ہے۔‘‘

ایران کے پاس دانشمندی سے فیصلہ کرنے کا موقع ہے، امریکی وزیر دفاع

فیدان کے مطابق ترک حکومت کو توقع ہے کہ ایران جنگ میں ایک ایسا امن معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس میں مذاکرات کے ذریعے پہلے جیسے حالات کی طرف لوٹا جا سکے۔ ایسے حالات جن میں آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی بحری جہازوں کا معمول کے مطابق گزر پہلے کی طرح محفوظ ہو اور ایسا بغیر کسی ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے ممکن ہو۔

آبنائے ہرمز میں گشت کرتی ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک اسپیڈ بوٹ: ایران نے جمعرات کے روز آبنائے ہرمز سے ’بلا اجازت گزرنے والے‘ دو مال بردار بحری جہاز اپنے قبضے میں لے لیے تھےتصویر: IRIB TV/AFP

آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھول کر پھر بند کر دیا جانا

اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ ایران جنگ کے آغاز کے بعد تہران نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس تنگ سمندری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی گئی تھی کہ جو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی اجازت حاصل نہیں کریں گے، ان کے خلاف عسکری کارروائی ممکن ہو گی۔

لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک

اسی دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔

ایران جنگ میں آٹھ اپریل سے فائر بندی جاری ہے، مگر اب تک نہ تو ایران نے اس آبنائے کو دوبارہ مستقل کھولا ہے اور نہ ہی امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکی بندی ختم کی ہے۔

آبنائے ہرمز کی فضا میں نگرانی کے لیے گشت کرتے اپاچی طرز کے امریکی جنگی ہیلی کاپٹر، سترہ اپریل کو لی گئی ایک تصویرتصویر: US Central Command/AFP

اس تنازعے میں یہ بھی ہوا تھا کہ ایران نے اس آبنائے کو دوبارہ مکمل کھولنے کا اعلان کر دیا تھا، مگر پھر چند ہی گھنٹے بعد امریکہ پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر اسے دوبارہ بند بھی کر دیا تھا۔

آبنائے ہرمز بحفاظت پار کرانے کے جھوٹے وعدے، دھوکہ دہی کا نیا طریقہ

اب ایران کی شرط یہ ہے کہ امریکی بحریہ پہلے ناکہ بندی ختم کرے، تو ہی اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں امریکی ایرانی امن مذاکرات کا دوسرا دور ممکن ہو سکے گا۔

ادارت: شکور رحیم

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں