1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیا 'اکھنڈ بھارت' کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا؟

جاوید اختر، نئی دہلی
15 اپریل 2022

آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ اگلے 15 برس میں 'اکھنڈ بھارت' کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔ ماہرین نے تاہم اسے محض خام خیالی قرار دیا ہے اور کہا کہ عملاً ایسا ممکن نہیں۔

Indien Organisation Rashtriya Swayamsevak Sangh
آر ایس ایس ہندو قوم پرست اور شدت پسند ہندو جماعتوں کی مربی تنظیم ہےتصویر: picture alliance/AP Photo

ہندو قوم پرست اور شدت پسند جماعتوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے 'اکھنڈ بھارت‘ کا معاملہ ایک بار پھر اٹھایا ہے۔ ہردوار میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا، ''بھارت جس رفتار سے ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے اگلے 20 سے 25 برسوں میں وہ اکھنڈ بھارت بن جائے گا۔ لیکن اگر ترقی کی رفتار مزید تیز کردی گئی تویہ مدت گھٹ کر آدھی رہ جائے گی۔ اگلے 15 برس میں بھارت ایک بار پھر اکھنڈ بھارت بن جائے گا اور سب اپنی آنکھوں سے اسے دیکھیں گے۔‘‘

 آر ایس ایس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا، ''ہم عدم تشدد کی بات کریں گے لیکن اپنے ہاتھوں میں لاٹھی بھی رکھیں گے کیونکہ دنیا طاقت کوتسلیم کرتی ہے۔‘‘ موہن بھاگوت کے بقول، ''ہمارے ذہن میں کوئی نفرت اور دشمنی نہیں ہے لیکن اگر دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے تو ہم کیا کریں؟‘‘

انہوں نے بھارت کو ''ہندو راشٹر‘‘ قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کو اپنا ہدف حاصل کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا اور ''اس کو روکنے والے ہٹ جائیں گے یا پھر مٹ جائیں گے۔‘‘

’اکھنڈ بھارت‘ محض خام خیالی

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا تاہم کہنا ہے کہ 'اکھنڈ بھارت‘ کا قیام خام خیالی کے سوا کچھ نہیں اور موہن بھاگوت نے ہندو دھرم کے اہم مسائل سے ہندو نوجوانوں کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا ہے۔

آر ایس ایس اور ہندوتوا پر کئی کتابوں کے مصنف مولانا عبدالحمید نعمانی نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا، ''ہندتوا کے نظریات کے بانی ونائک دامودر ساورکر اور آر ایس ایس کے دوسرے سربراہ آنجہانی مادھوراؤ سداشیو راؤ گولوالکر نے بھی اکھنڈ بھارت کی بات کہی تھی لیکن یہ اب عملا ً ممکن نہیں۔ یوں بھی اب ملکوں کی سرحدیں متعین ہوچکی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بھارت اب تک 24 مرتبہ تقسیم ہوچکا ہے۔ اکھنڈ بھارت قائم کرنے کا آخری موقع اگست 1947ء میں تھا جب بھارت دو حصوں میں تقسیم ہوا لیکن اس وقت آر ایس ایس یا ہندو مہاسبھا نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت تصویر: Strdel/AFP/Getty Images

یہ ممکن اس لیے بھی نہیں کیونکہ...

عبدالحمید نعمانی کا کہنا تھا، ''گرو گولوالکر کے مطابق اکھنڈ بھارت کا قیام ہندو، مسلمان اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو متحد کر کے ممکن ہوسکتا تھا۔ لیکن آر ایس ایس نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت کا شدید ماحول پیدا کردیا ہے ایسے میں ان کا متحد ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یوں بھی آر ایس ایس کے نظریے کے مطابق ہندوؤں کو ہی ہر چیز پر فوقیت اور اولیت حاصل ہے، دیگر مذاہب کے ماننے والے دوسرے یا تیسرے نمبر پر رہ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے میں 'اکھنڈ بھارت‘ کیسے بن سکتا ہے۔

یہ معاملہ کیوں اچھالا گیا

عبدالحمید نعمانی کا کہنا تھا، ''ہندو دھرم اس وقت زبردست داخلی کشیدگی کا شکار ہے۔ سماج اور طبقاتی نظام سے لے کر ذات پات تک جیسے موضوعات پر ہندومت اس وقت نظریاتی بحران سے دوچار ہے۔ حتٰی کہ آریہ سماج اور سناتن دھرم کے ماننے والوں نیز جین مت اور سکھ مت کے ماننے والے اور ہندوؤں میں بھی زبردست اختلافات ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت نے انہی مسائل اور مشکلات سے بالخصوص ہندو نوجوانوں کی توجہ ہٹانے کے لیے 'اکھنڈبھارت‘ کا شوشہ ایک بار پھر چھوڑا ہے۔ لیکن یہ صرف تصوراتی باتیں ہیں۔

آر ایس ایس کارکنوں کا تربیتی کیمپتصویر: Reuters/H. Sharma

اکھنڈ بھارت ہے کیا؟

تصوراتی طور پر تو 'اکھنڈ بھارت‘ میں غیر منقسم بھارت کے علاوہ انڈونیشیا سے لے کر سری لنکا تک کے تمام علاقے شامل ہیں تاہم ساورکر نے 1937ء میں احمدآباد میں ہندو مہاسبھا کے 19ویں سالانہ اجلاس میں اکھنڈ بھارت کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا تھا، ''اس میں کشمیر سے رامیشورم اور سندھ سے آسام تک کے علاقے شامل ہوں گے۔‘‘

آر ایس ایس کے اسکولوں میں پڑھائی جانے والی ایک نصابی کتاب میں اکھنڈ بھارت کا جو نقشہ دیا گیا ہے اس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی دکھایا گیا ہے جبکہ آر ایس ایس کی ٹریڈ یونین کے ایک میگزین نے اکھنڈ بھارت کے نقشے میں نیپال، بھوٹان اور میانمار کو بھی شامل کر رکھا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اکھنڈ بھارت کا قیام تو ممکن نہیں البتہ یورپی یونین یا متحدہ ریاست ہائے امریکہ کی طرز پر بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش پر مشتمل ایک کنفیڈریشن کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج مارکنڈے کاٹجو اس کے لیے ایک مہم بھی چلا رہے ہیں۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے بھی سن 2004ء میں ایک کنفیڈریشن کی تائید کی تھی۔

وزیراعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شدت پسند ہندو تنظیموں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیںتصویر: picture-alliance/AP Photo/S. Das

دیگر رہنماؤں کا ردعمل

متعدد رہنماؤں نے موہن بھاگوت کے بیان پر سخت تنقید کی ہے اور کہا کہ آر ایس ایس لوگوں کے جذبات سے کھیل رہی ہے۔

بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے جنرل سیکرٹری سیتا رام یچوری نے کہا، ''یہ اکھنڈ بھارت کیا ہے؟ وہ اس طرح کا زہر اور نفرت پھیلاتے ہیں اوراس کے نتیجے میں تشدد ہوتا ہے۔‘‘

شیو سینا کے رہنما سنجے راوت کا کہنا تھا، ''اگر کوئی اکھنڈ بھارت کی بات کرتا ہے تو اسے پہلے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھارت میں شامل کرنا ہوگا اور پھر جس پاکستان کو تقسیم کیا گیا تھا، اسے بھی بھارت میں شامل کرنا ہوگا۔ پہلے جہاں سرحدیں ہوا کرتی تھیں انہیں بھی جوڑیے، سری لنکا کو بھی شامل کیجیے۔ اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔‘‘

رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے سوال کیا، ''موہن بھاگوت کس بنیاد پر اگلے 15 برس میں اکھنڈ بھارت بنانے کی بات کررہے ہیں۔‘‘

’مودی کی حکومت ملک کو ایک ہندو ریاست بنانے کی کوشش میں‘

05:01

This browser does not support the video element.

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں