آسٹریا: لازمی فوجی سروس کے حق میں فیصلہ
21 جنوری 2013
آسٹریا یورپ کے ان چند ملکوں میں ہے جہاں فوجی سروس شہریوں کے لیے لازم ہے۔ چالیس فیصد ووٹروں نے فوجی سروس کو اختیاری قرار دینے کے حق میں ووٹ ڈالے۔ اتوار کے روز ہونے والا یہ ریفرنڈم آسٹریا کا پہلا ملک گیر ریفرنڈم تھا۔ گو کہ حکومت کا ریفرنڈم کے نیتجے پر عمل درآمد کرنا ضروری نہیں ہے تاہم حکومت نے کہا ہے کہ وہ لوگوں کے فیصلے کا احترام کرے گی۔ جرمنی نے حال ہی میں اس طرح کی لازمی سروس کو منسوخ کر دیا تھا۔
اس حوالے سے آسٹریا کے وزیر دفاع Johanna Mikl-Leitner کا کہنا تھا کہ لازمی فوجی سروس کا طریقہ کار آسٹریا کے لیے مناسب ہے اور یہ کہ اس سے آسٹریا مستقبل کے تمام امتحانات سے نبرد آزما ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ دو دہائیوں قبل سوویت یونین کے انہدام کے بعد یورپ کے بہت سے ملکوں نے اپنی افواج کی تعداد میں ہی کمی نہ کی تھی بلکہ فوج میں لازمی سروس کی شرط کو بھی ختم کر دیا تھا۔ فرانس نے یہ کام انیس سو چھیانوے اور جرمنی نے دو ہزار گیارہ میں کیا تھا۔
آسٹریا میں بعض افراد کا یہ خیال ہے کہ پیشہ ورانہ فوج کی تشکیل کی جانب بڑھنے کی صورت میں آسٹریا کو نیٹو کی جانب بھی بڑھنا پڑے گا جس سے اس ملک کی غیر جانب داری خطرے میں پڑ جائے گی۔ آسٹریا کے قدامت پسند حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس صورت میں آسٹریا کو ان بائیس ہزار افراد کو فوج میں بھرتی کرنے میں دقت پیش آئے گی جو لازمی فوجی سروس کی پالیسی کے تحت ہر چھ ماہ کے بعد آسٹریا کی فوج میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اختیاری طریقہ کار سے آسٹریا کی افواج کو بین الاقوامی امن مشنز اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی امداد ایسے کام کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
آسٹریا کے فوجی سربراہ General Edmund Entacher کہہ چکے ہیں کہ پیشہ ورانہ فوج رکھنے کی صورت میں فوجیوں کی تعداد، استطاعت اور کارکردگی پر فرق پڑے گا۔
shs/ng (AFP, dpa)