آسیان کا سربراہ اجلاس نوم پنہہ میں
30 مارچ 2012
’’آسیان، ایک کمیونٹی، ایک تقدیر‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد ہونے والے اس اجتماع میں اس تنظیم کے پانچ بانی رکن ملکوں انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا، فلپائن اور سنگا پور کے ساتھ ساتھ برونائی، ویت نام، لاؤس، میانمار اور کمبوڈیا کے سربراہانِ مملکت و حکومت بھی شریک ہوں گے۔
1967ء میں قائم ہونے والی یہ تنظیم 2015ء تک ایک ایسی کمیونٹی بننا چاہتی ہے، جو اقتصادی شعبے کے ساتھ ساتھ سلامتی کی پالیسیوں اور سماجی و ثقافتی اعتبار سے بھی مشترکہ بنیادوں پر اُستوار ہو۔
620 ملین انسانوں کی نمائندہ اس تنظیم کا سب سے بڑا نصب العین یورپی یونین کے 1985ء میں طے ہونے والے شینگن معاہدے کی طرز پر ایک ایسی داخلی منڈی کی تشکیل ہے، جس میں مختلف ملکوں کے اقتصادی شعبوں کا انضمام عمل میں آئے اور تجارتی رکاوٹیں ختم کر دی جائیں۔ اس طرح اَشیاء، سرمایہ کاری، افرادی قوت اور سرمایے کی آزادانہ نقل و حرکت کے نتیجے میں علاقائی معیشت کو مزید تحریک ملے گی اور جنوب مشرقی ایشیائی خطہ خاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ آسانی سے اپنی جانب راغب کر سکے گا۔
جرمن ایوان صنعت و تجارت میں ایشیا اور بحرالکاہل کے شعبے کے سربراہ بینجمن لائی پولڈ اس خطے کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’آسیان کے خطے کی اہمیت بڑھی ہے اور آگے چل کر مزید بڑھے گی۔ اپنی اقتصادی ترقی کی اوسطاً چھ فیصد شرح کے ساتھ یہ دُنیا کے انتہائی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے خطوں میں سے ایک ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ خاص طور پر جرمنی کے آسیان ملکوں کے ساتھ تجارتی روابط کے فروغ کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں اور جرمنی ان ملکوں کو بھاری مشینیں، طبی ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی ٹیکنالوجی برآمد کر سکتا ہے۔
آسیان ممالک یورپی یونین کا تیسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہیں، اِس کے باوجود آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے ابھی منصوبہ بندی ہی کے مرحلے میں ہیں۔ اس کے برعکس عوامی جمہوریہء چین 2010ء ہی میں آسیان کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں فوری طور پر اس خطے کے ساتھ چینی تجارت میں پچاس فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس طرح امریکا کی جگہ اب چین آسیان کا اہم ترین تجارتی ساتھی بن چکا ہے۔
امریکا اب آسیان ملکوں میں اقتصادی شعبے کی بجائے فوجی شعبے میں اپنی موجودگی کو مستحکم بنانے کے لیے زیادہ کوشاں ہے۔ چنانچہ چند روز بعد منعقد ہونے والے آسیان سربراہ کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیائی سمندری پارٹنرشپ SAMP پر تبادلہء خیال ہو گا، جس کی تجویز امریکی صدر باراک اوباما نے 2011ء میں آسیان ممالک کو اپنی اب تک کی آخری مشترکہ ملاقات میں پیش کی تھی۔
رپورٹ: امجد علی
ادارت: افسر اعوان