1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اتوار : فرانس میں قومی یکجہتی کا دن

عدنان اسحاق10 جنوری 2015

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے اتوار کو ملک میں قومی یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا ہے۔ اولانڈ کے مطابق ملک کے حالیہ بحران کو دیکھتے ہوئے یہ دن منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تصویر: AFP/Getty Images/R. de la Mauviniere

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے جمعے کے روز دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت نیشنل فرنٹ کی سربراہ مارین لے پین سے ملاقات کی ، جس کے بعد یہ اعلان سامنے آیا۔ نیشنل فرنٹ فرانس میں تارکیں وطن اور خصوصی طور پر مسلمانوں کی شدید مخالفت کرتی ہے۔ ری پبلک ڈے کے دوران ایک ریلی نکالی جائے گی۔ اس تناظر میں اولانڈ نے کہا کہ ’’ریپبلک مارچ میں تمام مذاہب، عقیدے ، سیاسی پس منظر اور قومیت کے لوگ شریک ہوں گے۔‘‘ اس مارچ میں یورپی رہنما بھی شرکت کریں گے۔ اس موقع پر انتظامیہ نے سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے ہیں۔ اس حوالے سے صدر اور وزیر خارجہ نے کہا کہ ریلی کے دوران نگرانی کے انتہائی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے اس مارچ میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے علاوہ ترک وزیراعظم احمد داؤد اوگلو کی شرکت متوقع ہے۔

تصویر: Reuters/J. Naegelen

پولیس کی حفاظت میں ادائیگی نماز

.اخبار شارلی ایبدو پر حملے کے بعد فرانس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کسی ممنکہ حملے سے بچنے کے لیے مختلف علاقوں کی مساجد میں پولیس کی نگرانی میں نماز ادا کی گئی۔ ڈوئچے ویلے کے نامہ نگار بیئرنڈ ریگرٹ پیرس سے ارسال کی جانے والی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ فرانس میں مسلم اور غیر مسلم آبادی کے درمیان تناؤ کوئی نئی بات نہیں۔ وہ لکھتے جمعے کے روز ہزاروں کی تعداد میں افراد جمعے کی تماز ادا کرنے کے لیے مختلف مساجد میں پہنچے اور ان میں چند مساجد کے باہر پولیس کی نفری بھی تعینات تھی۔ مساجد کی حفاظت کے احکامات ملکی وزارت داخلہ کی جانب سے دیے گئے تھے۔ فرانس میں زیر تعلیم ایک مسلم طالبہ نور سکیف ہر جمعے کو پیرس کی مرکزی مسجد میں نماز ادا کرنے آتی ہے۔ اس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ’’ مجھے بھی اس واقعے کا درد محسوس ہو رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت پر یہ واضح ہو گا کہ ہم مسلمان کسی بھی صورت دہشت گردی کے قریب نہیں ہیں۔ جمعے کے خطبے میں تمام علماء نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے‘‘۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں