اسد کے زوال کے ایک سال بعد شام میں کیا کچھ تبدیل ہوا ہے؟
29 نومبر 2025
آٹھ دسمبر شامکے آمر بشار الاسد کے زوال کی پہلی سالگرہ ہے۔ اسد خاندان نے پچاس سال سے زیادہ عرصے تک شام پر حکمرانی کی۔ حافظ الاسد 1971ء سے اقتدار میں رہے اور ان کی وفات کے بعد 2000ء میں ان کے بیٹے بشار نے اقتدار سنبھال لیا۔
ان کی آمرانہ حکمرانی نے 2011ء میں عوامی بغاوت کو جنم دیا، جو تقریباً 14 سال تک جاری رہنے والی شدید خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔ لیکن آٹھ دسمبر 2024ء کو باغی ملیشیا گروپ حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کی قیادت میں ایک تیز رفتار حملے نے اسد رجیم کو بہت کم مزاحمت کے ساتھ ختم کر دیا۔ اسد اور ان کا خاندان روس بھاگ گئے، جبکہ جنوری میں ایچ ٹی ایس کے سربراہ احمد الشرع شام کے عبوری صدر بن گئے۔
اس تبدیلی کے ایک سال بعد شام میں کیا کچھ تبدیل ہو چکا ہے اور عوام کس حال میں ہیں؟
سلامتی اور استحکام کی صورت حال
اب ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم نہیں پھینکے جا رہے اور نہ ہی روسی فضائی حملوں میں طبی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نومبر کی بریفنگ کے مطابق، ''شام اب بھی منتشر سلامتی کے منظر نامے سے نبردآزما ہے۔‘‘
دارالحکومت دمشق نسبتاً پرسکون ہے اور مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر چارلس لسٹر کے نیوز لیٹر 'سیریا ویکلی‘ کے مطابق تشدد کی سطح کم ہو رہی ہے۔
لیکن ملک بھر میں نئی شامی حکومت کی سکیورٹی فورسز اور دیگر گروپوں، جیسے کرد اور دروز اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں، کے درمیان جھڑپیں اب بھی ہو رہی ہیں۔ اگرچہ چھپی ہوئی ہیں لیکن اسد نواز قوتیں اب بھی موجود ہیں اور انتہا پسند گروپ ''اسلامک اسٹیٹ‘‘ کا دوبارہ فعال ہونا ایک مسئلہ ہے کیونکہ وہ ناقص سلامتی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
یورپی یونین کی ایجنسی فار ازائلم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق نئے شامی حکام کو ملک پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہے، ''قانون شکنی، جرائم اور انتقامی تشدد کی وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔‘‘
عبوری انصاف کمیشن
جاری تشدد کی ایک بڑی وجہ صرف سابق اسد رجیم کے مبینہ تعاون کاروں کو نشانہ بنانا ہے۔ واشنگٹن میں قائم 'سیریا جسٹس اینڈ اکاؤنٹیبلٹی سینٹر‘ (ایس جے اے سی) نے ستمبر کے ایک مضمون میں لکھا کہ عبوری انصاف کا عمل سب کے لیے یکساں ضروری ہے۔
مئی میں حکومت نے دو آزاد کمیشن قائم کیے، ایک جنگ کے بعد لاپتہ ہزاروں شامیوں کی تلاش کے لیے اور دوسرا اسد رجیم کے جرائم کے لیے۔ عبوری انصاف کمیشن پر تنقید بھی ہو رہی ہے کیونکہ وہ صرف اسد حکومت کے جرائم دیکھ رہا ہے، دیگر گروپوں جیسے ممکنہ طور پر ایچ ٹی ایس اور اس کے اتحادیوں کے جرائم کو نہیں۔
سیاست کہاں کھڑی ہے؟
شام نے رواں سال اپنا پہلا نسبتاً آزاد الیکشن کروایا۔ حالات کی وجہ سے حکام نے بتایا کہ براہ راست الیکشن ممکن نہ تھا، اس لیے الیکٹورل کالجز کے ذریعے یہ عمل ہوا۔ شام نئے آئین کی تیاری بھی کر رہا ہے اور اس سلسلے میں قومی مکالمہ منعقد کیا جا چکا ہے۔
تاہم عبوری حکومت اور دیگر برادریوں کے درمیان ملک کی مستقبل کی حکمرانی پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ الشرع طاقت کو مرتکز کرتے ہوئے آمرانہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کار اب بھی ''انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کا رویہ رکھتے ہیں۔ عرب سینٹر واشنگٹن کی فیلو پیٹریشیا کرم نے نومبر میں لکھا، ''یقیناً جمہوری شام کی بات کرنا قبل از وقت ہے لیکن نئے اداروں نے انتخابی سیاست میں ایک معمولی واپسی کی نمائندگی کی ہے۔ یہ پیش رفت شام کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کرتی ہیں۔ ملک حقیقی شمولیت والی حکمرانی کی طرف جا سکتا ہے یا آمریت میں واپس لوٹ سکتا ہے۔‘‘
خارجہ پالیسی
یہ وہ شعبہ ہے، جس میں شام نے سب سے بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ بند سفارت خانے دوبارہ کھل رہے ہیں اور نئے سیاست دان، جیسے شامی وزیر خارجہ اور صدر الشرع نے کئی ممالک کے دورے کیے ہیں۔
پہلے الشرع، جو کبھی القاعدہ سے وابستہ تھے، متعدد پابندیوں کی فہرستوں میں تھے اور ان پر 10 ملین ڈالر کا انعام تھا۔ لیکن ستمبر میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور نومبر میں 1946ء کے بعد پہلے شامی رہنما بن کر وائٹ ہاؤس گئے۔
شامی حکام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام پانچ مستقل ارکان بشمول روس اور چین سے رابطے کیے ہیں۔ یہ شام کی خارجہ پالیسی کی حقیقت پسندی کی علامت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ روس اسد رجیم کا اتحادی تھا اور الشرع سمیت ان کے بہت سے ساتھی پہلے روسی ہدف تھے۔
شام کا موجودہ سب سے بڑا خارجہ پالیسی کا مسئلہ ہمسایہ ملک اسرائیل کی شامی علاقوں میں جاری دراندازیاں ہیں۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کی نائب خصوصی ایلچی نجات رشدی نے نومبر میں کہا، ''اسرائیلی فوجی آپریشنز شہریوں کو خطرے میں ڈالتے، علاقائی تناؤ بڑھاتے، نازک سلامتی کے ماحول کو کمزور کرتے اور سیاسی تبدیلی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘‘
معاشرہ
جنگ کے دوران ملک چھوڑنے والے بہت سے شامی واپس لوٹ رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 2.9 ملین شامی واپس آ چکے ہیں، جن میں 1.9 ملین اندرونی طور پر بے گھر افراد اور ایک ملین سے زائد بیرون ملک سے واپس آنے والے شامل ہیں۔
لیکن انہیں شدید مسائل کا سامنا ہے۔ نارویجن ریفیوجی کونسل کے مطابق، ''بہت سے خاندان واپس آتے ہیں تو صرف کھنڈرات ملتے ہیں۔ لوگ تباہ شدہ انفراسٹرکچر، تباہ شدہ اسکولوں، ہسپتالوں اور گھروں کی ملکیت کے تنازعات میں واپس آ رہے ہیں۔‘‘
نومبر میں انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے رپورٹ کیا کہ ''پانی کی فراہمی کے نیٹ ورکس کا نصف سے زیادہ اور بجلی کے پانچ میں سے چار گرڈز یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا کام نہیں کر رہے۔‘‘
شام کی تعمیر نو کے لیے تخمینہ 250 سے 400 ارب ڈالر کے درمیان ہے یا شاید اس سے بھی زیادہ ہو۔ شامی خود اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی رات کی روشنیوں کی تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ بجلی کی پیداوار بہتر ہو رہی ہے تاہم یہ بہتری ابھی ملک بھر میں یکساں نہیں ہے۔
ابتدائی نومبر میں شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے رپورٹ کیا کہ ملک بھر میں 823 اسکولوں کی مرمت ہو چکی ہے جبکہ 838 پر کام جاری ہے۔
معیشت
واپس آنے والوں میں سے بہت سے افراد کو روزگار نہیں مل رہا۔ خانہ جنگی نے معیشت کو تباہ کر دیا تھا۔ آج بھی تقریباً ایک چوتھائی شامی شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ ورلڈ بینک کی جولائی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2025ء میں شامی معیشت کے ایک فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔
اسد دور کی زیادہ تر پابندیاں مستقل یا عارضی طور پر ہٹا دی گئی ہیں، جو معاشی بحالی میں مدد دیں گی۔ سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کی طرف سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے بھی مددگار ہو سکتے ہیں۔ تاہم انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ پالیسی کے مطابق، ''عام شامیوں کی زندگیوں پر اس کا ٹھوس اثر ابھی محسوس نہیں ہوا۔‘‘
ادارت: شکور رحیم