اسرائیلی توسیع منصوبہ: یورپی یونین اور مسلم ممالک کی مذمت
9 فروری 2026
یورپی یونین اور آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے آج بروز پیر اسرائیل کے ان نئے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے، جن کا مقصد مغربی کنارے پر کنٹرول سخت کرنا اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مزید یہودی بستیوں کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ اقدامات اتوار کے روز اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹرچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے منظور کیے، جن میں یہودی اسرائیلیوں کو مغربی کنارے کی زمین خریدنے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔
یورپی یونین کے ترجمان انور الانونی نے صحافیوں کو بتایا، ''یورپی یونین اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے حالیہ فیصلوں کی مذمت کرتی ہے، جن کے تحت مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول کو وسعت دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام ایک بار پھر غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔‘‘
دوسری جانب سعودی عرب کے جاری کردہ بیان کے مطابق سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے ''غیر قانونی اسرائیلی فیصلوں اور اقدامات‘‘ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی، جو مقبوضہ علاقوں پر غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کے مترادف ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات ''یہودی بستیوں کے قیام کو مضبوط بنانے، مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نیا قانونی اور انتظامی ڈھانچہ نافذ کرنے اور اس طرح غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کرنے‘‘ کی کوشش ہیں۔
ان اسرائیلی اقدامات میں الخلیل سمیت فلسطینی شہروں کے بعض حصوں میں یہودی بستیوں کے لیے تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام بلدیات سے لے کر اسرائیل کو منتقل کرنا بھی شامل ہے۔
اسموٹرچ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ''ارضِ اسرائیل کے تمام خطوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا اور فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنا‘‘ ہے۔
مغربی کنارے کے بعض غیر متصل علاقوں پر محدود کنٹرول رکھنے والی فلسطینی اتھارٹی کی صدارت نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ''مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی کوششوں کو مزید گہرا کرنا‘‘ ہے۔
یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے امریکہ کے متوقع دورے سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، جہاں ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ امریکہ مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کی مخالفت کرتا آیا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں اس وقت پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد ہیں، جبکہ اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
اس کے علاوہ تقریباً دو لاکھ اسرائیلی مشرقی یروشلم میں آباد ہیں، جسے اقوام متحدہ فلسطینی علاقوں کا حصہ قرار دیتا ہے۔
ادارت: عدنان اسحاق ، جاوید اختر