1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائیل کے ساتھ نئی لڑائی چھڑ سکتی ہے، بشار الاسد

31 مئی 2013

شام کے صدر بشار الاسد نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر نئی لڑائی شروع ہو سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس شام کو جدید میزائل فراہم کرنے میں سنجیدہ ہے۔

تصویر: Reuters

بشار الاسد نے یہ باتیں لبنان میں حزب اللہ کے ٹیلی وژن المنار کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہیں جو جمعرات کو نشر کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’’گولان میں مزاحمت کے لیے نیا محاذ کھولنے کے لیے واضح طور پر مقبول دباؤ پایا جاتا ہے۔‘‘

شام پر اسرائیل کے فضائی حملے کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’بشمول مسلسل اسرائیلی جارحیت کے متعدد وجوہات ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ہم سے جن فریقین نے رابطہ کیا ہے ہم نے انہیں مطلع کر دیا ہے آئندہ اسرائیلی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بشار الاسد کے ان بیانات کا فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

اے ایف پی کے مطابق اس انٹرویو میں بشار الاسد یہ ظاہر کرتے دکھائی دیے کہ روس زمین سے فضا میں مار کرنے والے S-300 میزائل سسٹمز میں سے بعض پہلے ہی فراہم کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’روس کے ساتھ تمام معاہدوں کا احترام کیا جائے گا اور بعض حال ہی پورے کیے جا چکے ہیں۔‘‘

اسرائیل نے 1967ء میں چھ روزہ جنگ کے بعد گولان کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھاتصویر: Reuters

روس نے میزائل سسٹم کی فراہمی کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم گزشتہ ہفتے یہ اعلان کیا تھا کہ ماسکو حکومت اپنے معاہدے کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

واشنگٹن انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ ماسکو حکومت کی جانب سے شام کو کسی بھی طرح کے ہتھیاروں کی ترسیل محض تنازعے کو طول دینے کا سبب بنے گی۔

بشار الاسد کی فورسز باغیوں سے لبنان کی سرحد کے ساتھ اہم علاقے قصیر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حزب اللہ کے فائٹرز کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہیں۔ بشار الاسد نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ وہ فتح کے لیے ’بہت پر اعتماد‘ ہیں۔

انہوں نے کہا: ’’ شام کے خلاف عالمی جنگ چھیڑی جا رہی ہے اور مزاحمت (اسرائیل مخالف) کو ہوا دی جا رہی ہے ... (لیکن) ہم فتح کے لیے بہت پُر اعتماد ہیں۔‘‘

قبل ازیں شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا تھا کہ فوج نے قصیر کے شمالی علاقے ارجون کا قبضہ حاصل کر لیا ہے اور وہاں باغیوں کے فرار کے راستے تقریباﹰ بند کر دیے گئے ہیں۔

ng/ab (AFP)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں