اسلام آباد مسجد دھماکہ: لواحقین میں معاوضوں کی تقسیم شروع
19 فروری 2026
یہ دھماکہ 6 فروری کودارالحکومت کے مضافاتی علاقے ترلائی کلاں میں جمعہ کی نماز کے دوران ہوا تھا، جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ (IS) نے قبول کی تھی۔ یہ واقعہ 2008 کے میریئٹ ہوٹل ٹرک بم دھماکے کے بعد اسلام آباد میں ہونے والا سب سے مہلک ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 36 ہلاک شدگان کے لواحقین کو امدادی چیک فراہم کر دیے گئے ہیں۔ ہر متاثرہ خاندان کو 50 لاکھ روپے (تقریباً 17,800 امریکی ڈالر) ادا کیے گئے، جبکہ اسلام آباد سے باہر رہنے والے چار دیگر ہلاک شدگان کے خاندانوں کو بھی یہ معاوضہ بھیجا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ مجموعی ہلاکتوں کی حتمی تعداد حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئی، تاہم یہ بیان پہلی سرکاری تصدیق ہے کہ حملے میں 40 جانیں ضائع ہوئی تھیں۔
یہ خودکش دھماکہ اس وقت ہوا جب ملک بھر کی مساجد میں جمعہ کی نماز میں شرکت کے لیے نمازیوں کا شدید رش ہوتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اکثریت سنی آبادی کی ہے، لیکن شیعہ مسلمان 10 سے 15 فیصد کے درمیان ہیں اور ماضی میں متعدد مرتبہ دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
اسلام آباد میں اس سے قبل آخری بڑا حملہ نومبر میں ہوا تھا، جب ایک عدالت کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ تقریباً تین سال بعد دارالحکومت میں شدت پسندوں کی اس بڑی کارروائی کا یہ پہلا بڑا واقعہ تھا۔
واضح رہے کہیہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان کی سکیورٹی فورسز افغانستان سے متصل جنوبی اور شمالی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز میں مصروف ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دہشت گرد حملوں میں 1,235 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 825 سکیورٹی اہلکار اور 400 شہری شامل تھے۔ ملک بھر میں 27 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ 2,597 عسکریت پسند مارے گئے۔
ادارت: جاوید اختر