اسی سال قبل ایک لاکھ پولش باشندوں کا قتل عام: یادگاری تقریب
9 جولائی 2023
دوسری عالمی جنگ کے دوران دنیا کے مختلف براعظموں میں مجموعی طور پر جو کئی ملین انسان مارے گئے تھے، ان میں پولینڈ کے لاکھوں شہری بھی شامل تھے۔ ان لاکھوں پولستانی باشندوں میں سے تقریباﹰ ایک لاکھ تک یوکرین کے قوم پسندوں کے ہاتھ قتل ہوئے اور اس تاریخی خونریزی کو وولہائنیا کا قتل عام کہا جاتا ہے۔
امریکہ عالمی تشویش کو نظرانداز کرکے یوکرین کو کلسٹر بم دے گا
یہ قتل عام 1943ء سے 1945ء تک دو سال کے عرصے میں کیا گیا تھا اور مؤرخین کے مطابق اس میں مارے جانے والے پولش باشندوں کی تعداد ایک لاکھ تک رہی تھی۔
دوسری طرف خود پولستانی مورخین بھی یہ کہتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اسی قتل عام میں 12 ہزار تک ایسے یوکرینی باشندے بھی مارے گئے تھے، جو پولش باشندوں کی جوابی مسلح کارروائیوں کا نشانہ بنے تھے۔
'یوکرین اور روس کلسٹر بموں کا استعمال بند کریں'
یادگاری تقریب میں دونوں ممالک کے صدور کی شرکت
وولہائنیا کے قتل عام کو 80 برس ہو جانے کے موقع پر آج اتوار نو جولائی کے روز نہ صرف پولینڈ کے صدر آندرے ڈُوڈا نے یوکرین کا دورہ کیا بلکہ وہاں ایک تقریب میں حصہ بھی لیا۔
صدر ڈُوڈا کی یوکرین آمد اور وہاں ایک یادگاری دعائیہ تقریب میں مشترکہ شرکت کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم پولستانی صدر مغربی یوکرین کے شہر لُٹسک پہنچے اور وہاں انہوں نے اپنے یوکرینی ہم منصب وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ مل کر ایک کلیسا میں ہونے والی یادگاری تقریب میں حصہ لیا۔ اس تقریب کا مقصد اس قتل عام کی یاد تازہ کرنا اور ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا۔
روس اور یوکرین کے ایک دوسرے پر جوہری پلانٹ پر حملے کے منصوبوں کے الزامات
پولینڈ اور یوکرین کی باہمی تاریخ میں یہ قتل عام اتنا بڑا، المناک اور تلخ واقعہ ہے کہ یہ عشروں تک وارسا اور کییف کے مابین شدید کشیدگی کی وجہ بنا رہا۔ اس قتل عام کو کبھی جھٹلایا نہیں جا سکے گا، تاہم اب بین الاقوامی اور علاقائی صورت حال اتنی بدل چکی ہے کہ یوکرین اور پولینڈ اس قتل عام کے باوجود ایک دوسرے کے بڑے حلیف ہیں۔
اب پولینڈ یوکرین کا سب سے بڑا اتحادی
گزشتہ برس فروری کے اواخر میں روسی فوج کی طرف سے یوکرین پر حملے کے بعد سے پولینڈ، جو اب یورپی یونین کے ساتھ ساتھ نیٹو کا بھی رکن ہے، یوکرین کا سب سے بڑا اتحادی بن چکا ہے۔
جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیے جائیں گے، بیلاروس
پولینڈ نے اپنے ہاں نہ صرف جنگ کی وجہ سے بےگھر ہو جانے والے لاکھوں یوکرینی باشندوں کو پناہ دی ہے بلکہ وہ روس کے خلاف یوکرین کی سیاسی، اخلاقی اور عسکری مدد بھی کر رہا ہے۔
وولہائنیا کے قتل عام کی 80 وی برسی کے موقع پر پولستانی صدر کا یوکرین جانا بھی وارسا میں موجودہ ملکی قیادت کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ماضی کے زخم اپنی جگہ مگر ان سے یہ سبق بھی سیکھا جا سکتا ہے کہ دور حاضر میں لاحق خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ مل کر کیا جائے۔
سترہ ہزار یوکرینی ریکروٹس کی فوجی تربیت مکمل، برطانوی رپورٹ
لُٹسک میں یادگاری تقریب کے حوالے سے مشترکہ موقف
مغربی یوکرینی شہر لُٹسک کے ایک کلیسا میں منعقدہ یادگاری اور دعائیہ تقریب کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح پولستانی صدر ڈُوڈا اور ان کے یوکرینی ہم منصب زیلنسکی ہاتھوں میں موم بتیاں لیے ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوئے۔
کیا روس پر پوٹن کی گرفت کمزور ہو رہی ہے؟
بعد ازاں ان دونوں صدور نے ٹوئٹر پر اپنے اپنے پیغامات میں ایک ہی بات لکھی، ''ہم مل کر وولہائنیا کے معصوم مقتولین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی یاد نے ہمیں آپس میں ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔ مل کر ہم پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔‘‘
م م / ع س (روئٹرز، اے پی، اے ایف پی)