اس سال کا نوبل امن انعام یورپی یونین کے نام
12 اکتوبر 2012
اوسلو میں اس انعام کا اعلان کرنے والی کمیٹی کے مطابق انعام دینے کے اس فیصلے سے یونین کا مورال بلند ہو گا۔ اس طرح یونین کی ان کوششوں میں بھی بہتری آئے گی جو وہ موجودہ اقتصادی اور مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے کر رہی ہے۔ یورپی یونین کو 2012 کا نوبل امن انعام دینے کا فیصلہ ایک تاریخی عمل کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ عمل براعظم یورپ میں اس دیرپا قیام امن سے متعلق ہے جو دو عالمی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کی موت کے بعد لازمی ہو گیا تھا۔
یورپی یونین کے لیے سال رواں کے نوبل امن انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبل کمیٹی کے سربراہ Thorbjoern Jagland نے جمعے کو اوسلو میں کہا، ’’یورپی یونین نے یورپ کو جنگوں کے براعظم سے امن کے براعظم میں ۔تبدیل کر دیا ہے۔‘‘
یورپی یونین کو اس وقت بہت سے اقتصادی مسائل کی وجہ سے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ یونین کے رکن ملکوں میں کافی سماجی عدم اطمینان بھی پایا جاتا ہے۔ اس بارے میں ناروے کی نوبل کمیٹی کے سربراہ نے یونین کے لیے کامیابی کی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
’’یونین کی کوششوں کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ یونین کی امن، مصالحت،جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد بہت کامیاب رہی ہے۔‘‘
ناروے کی نوبل کمیٹی کے سربراہ یَگلنڈ نے کہا کہ دو عالمی جنگوں کے بعد یورپ کی تعمیر نو میں یونین کا کردار انتہائی قابل تعریف رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر 1989 میں دیوار برلن کے خاتمے کے بعد یورپ میں استحکام کو وسعت دینے کے سلسلے میں بھی یونین کے کردار کو بہت سراہا۔ یَگلنڈ کونسل آف یورپ کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں اور ان کی سرابراہی میں پانچ رکنی نوبل کمیٹی نے یورپی یونین کے یہ انعام دینے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا۔
اس انعام کے ساتھ یورپی یونین کے 1.2 ملین ڈالر کی نقد رقم بھی دی جائے گی۔ یہ انعام اوسلو میں دس دسمبر کو دیا جائے گا۔
یورپی یونین کو نوبل امن انعام دینے کے فیصلے کا سبھی یورپی رہنماؤں نے خیر مقدم کیا ہے۔ سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروئڈر نے کہا کہ یہ نوبل کمیٹی کا ایک اہم اور درست فیصلہ ہے۔ یورپی یونین کے صدر ہیرمان فن رومپوئے نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ یونین کی امن کے لیے خدمات کا اس طرح اعتراف کیا گیا ہے۔
سابق جرمن چانسلر ہیلموٹ کوہل نے اس فیصلے کو عقلمندانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے مطابق انہیں بہت خوشی ہے کہ یورپی یونین کی خدمات کا نوبل امن انعام کے ساتھ اعتراف کیا گیا ہے۔
یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانوئل باروسو نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے تمام 500 ملین شہریوں کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ 2012 کا نوبل امن انعام یورپی یونین کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ij /aba ( Reuters)