’اس لسٹ میں شامل یورپی سیاستدان روس نہیں آ سکتے‘، ماسکو
30 مئی 2015
جن یورپی سیاستدانوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان کے ناموں کا انتخاب روسی وزارت خارجہ نے کیا اور پھر ماسکو کے دورے پر گئے ہوئے یورپی یونین کے وفد کو یہ لِسٹ فراہم کی گئی تھی۔ اس فہرست میں خاص طور پر روس پر تنقید کرنے والوں کے علاوہ سکیورٹی حکام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کو یورپی یونین کے ترجمان نے بتایا ہے کہ حالیہ ایام میں کئی یورپی سیاستدانوں کو روس میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ خیال کیا گیا ہے کہ یہ افراد خفیہ فہرست میں شامل تھے۔
یوکرائن کے دورے پر گئے ہوئے جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے فہرست میں شامل افراد کے نام جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ نام سامنے لانے سے امن کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ شٹائن مائیر کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے انتہائی خطرناک تنازعے کی شدت کو کم کرنے کی کوششوں کے لیے ان ناموں کا ظاہر کرنا فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ پیر کو جرمن حکومت نے رکنِ پارلیمنٹ کارل گیورگ ویل مان کو روس میں داخل ہونے کی اجازت نے دینے پر احتجاج کیا تھا۔ رواں برس کے اوائل میں روسی حکام نے ویل مان کو جنگی تاجر کے لقب سے نوازا تھا۔
اس فہرست میں یورپی یونین کونسل کے سیکرٹری جنرل اُووے کورسیپیوس (Uwe Corsepius) کا نام بھی شامل ہے۔ کورسیپیوس اگلے دنوں میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے مشیرے برائے خارجہ امور کا منصب سنبھالنے والے ہیں۔ روس کی جانب سے بلیک لِسٹ کیے جانے والوں میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم نِک کلیگ بھی شامل ہیں۔ اسی طرح بیلجیئم کے سابق وزیراعظم گوئے فیرہوف اسٹڈ (Guy Verhofstadt) بھی بلیک لسٹ ہونے والوں میں شامل ہیں۔ فہرست میں یورپی ریاستوں کے کئی سابقہ اور عبوری منصب رکھنے والے وزراء شامل ہیں۔ سویڈن کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اُس کے نو افراد روسی فہرست میں شامل ہیں۔
بیلجیئم کی انتہائی قدامت پسند خاتون سیاستدان لینا ایڈلسن لیژروتھ کا نام بھی بلیک لسٹ ہونے والوں میں شامل ہے۔ اسی طرح چیک جمہوریہ کے سابق وزیر خارجہ کاریل شوارٹزن بیرگ نے روس کی فہرست میں اپنے نام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ باوقار افراد کے کلب کا حصہ ہیں۔ پولستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولینڈ کے اٹھارہ سیاستدانوں کو روس نے بلیک لسٹ کیا ہے۔ جرمن حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اِس فہرست کو عام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اِس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے پلان کا بھی اعلان کیا جائے گا۔