اصلاحات ضروری ہیں ورنہ یورپی یونین چھوڑ دیں گے، برطانوی وزیر خزانہ
16 جنوری 2014
برطانیہ نے اپنے یورپی ساتھیوں پر واضح کیا ہے کہ یورپی معاہدے قابل عمل نہیں ہیں اس لیے ان میں لازمی طور پر اصلاحات کی جانی چاہیں بصورت دیگر برطانیہ یورپی یونین سےعلیحدہ ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان برسلز میں موجود یورپی حکام اور سیاستدانوں کو ناگوار بھی گزر سکتا ہے۔ برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن کے بقول یورپی یونین میں شامل یورو کرنسی استعمال نہ کرنے والی رکن ریاستوں کے تحفظ کے لیے یورپی معاہدوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ اوسبورن نے یہ بیان اٹھائیس رکنی یورپی یونین میں اصلاحات کے موضوع پر لندن میں ہونے والے ایک اجلاس میں دیا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ برطانیہ کی مخلوط حکومت میں شامل قدامت پسند حلقوں نے یورپی یونین کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کی رائے میں لندن حکومت کی جانب سے تبدیلیوں کا یہ مطالبہ برسلز میں موجود ان حلقوں کے لیے حیرانگی کا باعث ضرور بنا ہو گا، جو چاہتے ہیں کہ برطانیہ اس بلاک کا حصہ رہے۔ یورپی کمیشن کے سربراہ یوزے مانوئیل باروسو کہہ چکے ہیں کو برطانیہ اور اس طرح کے دیگر ممالک تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اپنے مفادات کو فوقیت دیتے ہوئے ایسے مطالبے کر رہے، جو ان کے لیے بہتر ہیں۔ اس سے ایک امر واضح ہوتا ہے کہ یورپی یونین میں اصلاحات کے اس مطالبے کے خلاف پہلے ہی سے سخت مزاحمت پائی جاتی ہے اور کیمرون حکومت کے لیے اپنی من مانی کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو گا۔
وزیر خارجہ خزانہ اوسبورن کا شمار وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اُن ممالک کو باقاعدہ قانونی تحفظ فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے، جو یورو کرنسی زون میں شامل نہیں ہیں۔ ان کے بقول اگر یورو زون سے باہر ممالک کے مشترکہ مفادات کا تحفظ نہیں کیا جاتا تو ان کے پاس صرف دو ہی راستے بچتے ہیں پہلا یورو زون میں شامل ہونے کا اور دوسرا یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کا۔ اوسبورن نے کہا کہ برطانیہ کبھی بھی یورو کوکرنسی کے طور پر نہیں اپنائے گا۔
اس سے قبل وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کہہ چکے ہیں دوبارہ انتخاب کی صورت میں وہ یورپی یونین میں رہنے یا علیحدہ ہونے کے بارے میں ریفرنڈم کرائیں گے لیکن اس سے قبل برسلز حکام کے ساتھ بات چیت ضرور کی جائے گی۔ برطانوی قدامت پسند حلقے یورپی انضمام کے بارے میں پہلے بھی برملا انداز میں اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں۔ تاہم اب ان کے اعتراضات کی گونج بڑھتی جا رہی ہے۔