1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افرادی قوت کی کمی پر روس کی بھارت سے کیا امیدیں ہیں؟

26 جنوری 2026

روس کو مزدوروں سمیت دیگر افرادی قوت کی شدید ضرورت ہے، اس لیے اب وہ بھارت سے کارکن بھرتی کر رہا ہے۔ ماسکو امیگریشن حکمتِ عملی کیوں تبدیل کر رہا ہے، اور روس آنے والے بھارتیوں کو کن حالات کا سامنا ہو گا؟

مودی اور پوٹن نئی دہلی میں
بھارت سے روس کی جانب یہ نقل مکانی دسمبر 2025 میں وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر پوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پانے والے افرادی قوت کی نقل و حرکت کے معاہدے سے جڑی ہےتصویر: Grigory Sysoyev/Sputnik/REUTERS

توقع کی جا رہی ہے کہ رواں برس کم از کم 40 ہزار بھارتی شہری مزدوروں کی حیثیت سے روس آئیں گے۔

حال ہی میں یہ اعلان روسی خبر رساں ادارے 'ریا نووستی' سے بات چیت میں روس کے پائیدار ترقی کے شعبے میں بین الاقوامی تنظیموں سے تعلقات کے خصوصی نمائندے بورس تیتوف نے کیا۔ ماسکو میں بھارت کے سفیر ونئے کمار نے بھی اسی ایجنسی سے بات چیت کی،  جن کے مطابق 2025 کے اختتام تک 70 سے 80 ہزار بھارتی شہری پہلے سے ہی روس میں کام کر رہے تھے۔

بھارت سے روس کی جانب یہ نقل مکانی دسمبر 2025 میں نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پانے والے افرادی قوت کی نقل و حرکت کے معاہدے سے جڑی ہے۔ اس دستاویز کے تحت 2026 کے لیے 70 ہزار سے زائد بھارتی شہریوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔

روس میں بھارتی شہریوں کی تعداد میں مسلسل

ڈی ڈبلیو کی تحقیق کے مطابق سرحدی اعداد و شمار سے عیاں ہوتا ہے کہ روس میں داخل ہونے والے بھارتی شہریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے مطابق 2025 کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً 32 ہزار اور دوسری سہ ماہی میں 36 ہزار افراد نے سرحد عبور کی، جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ تعداد بڑھ کر 63 ہزار تک پہنچ گئی۔

کام کرنے والے ایسے بھارتی کارکنوں کی بھرتی سرکاری اور ایسی غیر سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے، جو اس بات کی ذمہ دار ہوتی ہیں کہ بھارت سے آنے والوں کو ان کی آئندہ ملازمتوں کے بارے میں مکمل اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔ روس میں کم ہنر مند بھارتی کارکنوں کی ماہانہ اجرت پانچ سو سے 1,111 امریکی ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ بھارت میں ملنے والی آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔

دسمبر میں روسی میڈیا ادارے فونتانکا نے سینٹ پیٹرزبرگ کی سڑکوں کی صفائی کرنے والے بھارتی کارکنوں کے ایک متنوع گروہ پر رپورٹ شائع کی تھی۔ ان کارکنوں کے مطابق انہیں تقریباً 100 ہزار روبل یعنی 1,316 ڈالر ماہانہ تنخواہ ملتی ہے اور اس کے ساتھ ہی مفت رہائش، کھانا اور روسی زبان کے کورسز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ شہر کی انتظامیہ کے مطابق تقریباً تین ہزار بھارتی شہری روزگار کی تلاش میں سینٹ پیٹرزبرگ آئے ہیں۔

ایک بھارتی سفارت کار نے، دوطرفہ تعلقات کی نزاکت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ لیبر معاہدہ بھارت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

انہوں نے کہا، ''روس کو مزدوروں کی ضرورت ہے، اور بھارت کو بے روزگاری برآمد کرنی ہے۔‘‘

بھارت اور روس کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 70 ارب ڈالر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ روس کے پاس بھارتی روپے جمع ہو رہے ہیں اور روس ان رقوم کو کارآمد انداز میں استعمال کرنا چاہے گاتصویر: Alexander Kazakov/Sputnik/REUTERS

کام یا پھر جنگ؟

بھارتی سفارت کار کے مطابق اس حوالے سے ایک باضابطہ معاہدہ اس لیے ضروری تھا تاکہ روس میں بھارتی ہجرت کو قانونی شکل دی جا سکے، جو ایک طویل عرصے سے ''غیر رسمی اور بے ترتیب‘‘ انداز میں ہو رہی تھی۔

ماضی میں اس صورتحال کے باعث کئی بھارتی شہری دھوکہ دہی کا شکار ہوئے۔ مثال کے طور پر بعض افراد نے غلط معلومات کی بنیاد پر روسی فوج کے ساتھ معاہدے کر لیے اور اس لیے انہیں یوکرین کی جنگ میں بھیج دیا گیا۔

فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے اب تک 126 بھارتی شہریوں نے روسی فوج کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایسے کم از کم 12 بھارتی شہری روس کی جانب سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 96 اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔

2024 میں ماسکو کے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے صدر پوٹن سے ان بھارتی شہریوں کی وطن واپسی پر بات کی جو پہلے ہی روسی فوج سے معاہدے کر چکے تھے، اور اس بات پر بھی زور دیا کہ آئندہ ایسی بھرتیوں کو روکا جائے۔

روس میں بھارتیوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

روسی ماہرِ معاشیات ایگور لپسٹس کے مطابق روس میں بھارتی شہریوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ زبان کا مسئلہ ہے۔ زیادہ تر بھارتی کارکن روسی زبان نہیں جانتے، جبکہ روس کی بڑی آبادی، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، انگریزی نہیں بولتی ہے۔

لپسٹس نے کہا، "آپ ایسے لوگوں کو ملک میں لا رہے ہیں جن سے آپ بات چیت نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں صرف انتہائی سادہ کاموں، جیسے وزن اٹھانا، صفائی کرنا اور برف ہٹانا جیسے کاموں تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔‘‘

ان کے خیال میں ثقافتی اختلافات بھی بھارتیوں کے روسی معاشرے میں ضم ہونے کے امکانات کو محدود کرتے ہیں۔

ماہرِ معاشیات آندرے یاکوولیف کا کہنا ہے، "میرا خیال ہے کہ وہ بھارت پر اس لیے بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ ملک میں مسلمانوں کی آمد کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ ان کا خیال ہے کہ روس آنے والے بیشتر ہندو ہوں گے۔"

یاکوولیف، اور لپسٹس دونوں ہی بھارتی کارکنوں کو روس میں افرادی قوت کی کمی کا مستقل حل نہیں سمجھتے۔  لپسٹس کے مطابق، "مسئلہ صفائی کرنے والوں یا غیر ہنر مند مزدوروں کی کمی کا نہیں بلکہ ماہر پیشہ ور افراد کی قلت کا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "فی الحال دراصل یہ ایک آزمائشی مرحلہ ہے۔ وہ یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ لوگ روسی معیشت کے لیے موزوں ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔"

روس بھارت پر کیوں توجہ مرکوز کر رہا ہے؟

22 مارچ 2024 کے روز ماسکو کے کروکس سٹی ہال میں ہونے والے ہلاکت خیز دہشت گرد حملے کے بعد، جس میں کم از کم 143 افراد ہلاک ہوئے، عمارت کے بڑے حصے کو آگ لگ گئی اور چھت کے بعض حصے منہدم ہو گئے۔ اس کے بعد روسی حکام نے وسطی ایشیا سے آنے والے تارکینِ وطن کے خلاف اپنی سخت زبان میں اضافہ کر دیا اور ان ممالک سے امیگریشن کی اجازت پانے والوں کی تعداد بھی محدود کر دی۔

جیسا کہ ماہرِ معاشیات لپسٹس نے نشاندہی کی ہے کہ وسطی ایشیا کے ممالک خود بھی تیزی سے افرادی قوت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی، "وسطی ایشیائی ریاستوں کے شہری اب دیگر لیبر مارکیٹس، خاص طور پر برطانیہ اور جنوبی یورپ، کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مہاجر مزدور زیادہ اجرت کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس کی وجہ سے روسی آجرین کے لیے انہیں ملازمت دینا کم فائدہ مند ہو گیا ہے۔

یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے اب تک 126 بھارتی شہریوں نے روسی فوج کے ساتھ معاہدے کیے اور بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایسے کم از کم 12 بھارتی شہری روس کی جانب سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیںتصویر: Noah Seelam/AFP

ڈی ڈبلیو سے بات کرنے والے ماہرین کے مطابق، روس کی جانب سے بھارت کا انتخاب اتفاقیہ نہیں ہے۔ دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں روسی امور کے ماہر راجن کمار کا خیال ہے کہ روس ممکنہ طور پر بھارتی مزدوروں کو وہی بھارتی روپے میں ادائیگی کرے گا، جو اسے تیل کی تجارت کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔

بھارت اور روس کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 70 ارب ڈالر ہے، تاہم روس بھارت سے صرف پانچ ارب ڈالر کی اشیا خریدتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روس کے پاس بھارتی روپے جمع ہو رہے ہیں، جیسا کہ ماہر نے وضاحت کی، اور روس ان رقوم کو کارآمد انداز میں استعمال کرنا چاہے گا۔

روس کی آبادی میں مسلسل کمی

روس کے وفاقی ریاستی شماریاتی سروس کے مطابق، 2024 میں روس کو مجموعی طور پر 22 لاکھ کارکنوں کی کمی کا سامنا تھا۔ یہ کمی صنعت، تعمیرات، لوجسٹکس، طب، تجارت اور آئی ٹی کے شعبوں میں واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اندازے محض تخمینے ہیں۔

یاکوولیف کے مطابق، یہ کمی صرف یوکرین کی جنگ، فوجی بھرتی یا ہجرت کا نتیجہ نہیں ہے۔ ان کے خیال میں بھارتی کارکنوں کی بھرتی کریملن کی جانب سے طویل المدتی آبادیاتی تبدیلیوں کا ردِعمل ہے۔

لپسٹس نے مزید کہا، "جنگ، ہجرت اور فوجی بھرتی اپنا کردار ادا کرتی ہیں، لیکن یہ عوامل اس سے کہیں زیادہ پرانے مسئلے کو شدید بنا رہے ہیں، یعنی آبادی میں مسلسل کمی۔"

ان کا کہنا ہے، "اب صورتحال بدل رہی ہے اور کساد بازاری کا آغاز ہو رہا ہے۔ کمپنیاں کام کے اوقات کم کر رہی ہیں، اور اس سال بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا امکان بھی موجود ہے۔"

بھارتی ماہرین کی محتاط رائے

بھارتی ماہرین بھی اس لیبر اقدام کے بارے میں محتاط ہیں۔ نئی دہلی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی کی پروفیسر لیکھا چکرورتی نے خبردار کیا کہ جنگ کی وجہ سے روس کی جانب سے افرادی قوت کی طلب غیر متوازن اور غیر مستحکم ہے۔

ان کے مطابق، "تنازع کے بعد معمول پر واپسی، یا کسی نئی کشیدگی، کی صورت میں اجرتیں تیزی سے کم ہو سکتی ہیں، برطرفیاں بڑھ سکتی ہیں، اور مہاجرین وطن واپسی میں حائل رکاوٹوں اور محدود تحفظ کے باعث پھنس سکتے ہیں۔"

ایوگینی دیوک / مرلی کرشنن

ادارت: جاوید اختر

بھارت اور روس کے درمیان تعلق مضبوط کیوں؟

03:24

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں