1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افریقن یونین کے سربراہی اجلاس میں تنازعات چھائے رہے

افسر اعوان31 جنوری 2014

براعظم افریقہ میں مجموعی طور پر اقتصادی شرح نمو عالمی اقتصادی شرح نمو سے کہیں زیادہ ہے۔ اس خطے میں نہ صرف متوسط طبقہ بڑھ رہا ہے بلکہ افریقہ میں جاری مسلح تنازعات کی تعداد بھی بتدریج کم ہو رہی ہے۔

تصویر: Getty Images

ان حالات میں ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں ہونے والے افریقی یونین کی سربراہی اجلاس کے نتائج کو متوقع طور کامیابی کی نوید ہونا چاہیے تھا مگر 30 اور 31 جنوری کو ہونے والے اس اجلاس کے ایجنڈا پر زیادہ تر جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں جاری تنازعات چھائے رہے۔

باضابطہ طور پر تو اس اجلاس مقصد زراعت اور فوڈ سکیورٹی سے متعلق معاملات پر غور و خوض تھا مگر بر اعظم افریقہ کے 54 ممالک پر مشتمل اس بلاک کے رہنماؤں کا زیادہ تر وقت رکن ممالک کے درمیان جاری تنازعات کے حوالے سے بحث و مباحثے اور ان کے خاتمے کی کوششوں پر سرف ہوا۔

دیرپا امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا، انکوسازانہ ڈالمینی زوماتصویر: Simon Maina/AFP/Getty Images

ان دونوں ریاستوں میں جاری تنازعات میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جنوبی سوڈان میں جنگ بندی پر اتفاق تو ہو چکا ہے مگر فریقین کی جانب سے اس کی وقتاﹰ فوقتاﹰ خلاف ورزیاں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ وسطی افریقی یونین میں قیام امن کے لیے افریقی یونین کے 5300 جبکہ فرانس کے 1600 فوجی تعینات ہیں تاہم وہاں قتل وغارت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹنی کے مطابق صرف دارالحکومت بنگوئی میں گزشتہ تین روز کے دوران 30 افراد خانہ جنگی کا شکار ہوئے ہیں۔

افریقی یونین کمیشن کی سربراہ انکوسازانہ ڈالمینی زوما نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا، ’’ہمارے دل وسطی افریقی جمہوریہ اور جنوبی سوڈان کے لوگوں کے ساتھ ہیں جو اپنے ممالک میں تباہ کن تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کے ساتھ جو ان تنازعات کا نشانہ بن رہے ہیں۔‘‘ ڈالمینی زوما کا مزید کہنا تھا، ’’دیرپا امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔‘‘

تنازعات میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیںتصویر: Reuters

زراعت کے حوالے سے براعظم افریقہ میں موجود امکانات کا ذکر کرتے ہوئے ڈالمینی زوما کا کہنا تھا: ’’زراعت ہمارے براعظم کو بدل سکتی ہے۔ ہمارے پاس 30 ملین اسکوئر کلومیٹر قابل استعمال زمین موجود ہے جو بہت سے ممالک کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ چین، امریکا، مغربی یورپ اور دیگر بہت سے ممالک کی بھی۔‘‘

ایتھوپیا کے وزیراعظم ہائیلے اور افریقی یونین کے سبکدوش ہونے والے چیئرمین ماریم ڈیسالنیے نے بطور چیئرمین اپنے آخری خطاب میں افریقی ممالک میں جاری تنازعات کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں ناکامی سے علاقائی امن اور استحکام پر نہایت خطرناک نتائج مرتب ہوں گے۔ افریقی یونین کی سربراہی اب ایتھوپیا سے موریطانیہ کو منتقل ہو گئی ہے۔

افریقی یونین کی سربراہ سمٹ کے بعد کل بروز ہفتہ یکم فروری کو مغربی سفارتکاروں اور افریقی رہنماؤں کی طرف سے وسطی افریقی جمہوریہ میں متاثرین کی مدد کے لیے ایک امدادی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں