1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
صحتافریقہ

افریقہ میں بریسٹ کینسر کا پھیلاؤ: آگہی کم، علاج محدود

24 اکتوبر 2021

افریقہ میں خواتین میں چھاتی کے کینسر کے بارے معلومات بہت محدود ہیں اورعلاج تک رسائی بھی کم ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں بریسٹ کینسر کی آگہی کا مہینہ جاری ہے۔ ڈی ڈبلیو نے تین افریقی ملکوں میں اس بیماری کا جائزہ لیا ہے۔

تصویر: Getty Images/AFP/A. Shazly

اس جائزے میں جن ممالک پر توجہ مرکوز کی گئی ان میں نائجیریا، یوگنڈا اور ملاوی شامل ہیں۔ اس مرض کی آ گہی کے حوالے سے ہفتہ سولہ اکتوبر کو ہزاروں افراد نائجیریا کے دارالحکومت ابوجہ کی سڑکوں پر ایک مارچ میں شریک ہوئے۔

اس مارچ کا نام 'واک اوے کینسر‘ ( #WalkAwayCancer) تھا۔ اس مارچ کا انتظام اُن غیر حکومتی تنظیموں نے کیا جو نائجیریا میں بریسٹ کینسر کی معلومات فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایک یورپی ڈاکٹر بریسٹ کینسر کی ایک مریضہ کا ایکس رے دیکھتے ہوئےتصویر: Channel Partners/Zoonar/picture alliance

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں بریسٹ کینسر کا مرض بہت  زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف عالمی ادارہ صحت بھی کرتا ہے۔ اس ادارے کے سن 2020 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس جان لیوا مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد بائیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ مغربی افریقہ میں پہلے بریسٹ کینسر کے مریض کم تھے لیکن اب وہاں بھی یہ تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔

برا اور چھاتی کا سرطان، کچھ من گھڑت دعوے

نائجیریا میں آگہی کی مہم

افریقی ملک نائجیریا میں اس وقت بھی بے شمار خواتین تک بریسٹ کینسر کی معلومات پہنچی ہی نہیں ہیں۔ اس کے پھیلاؤ اور اموات کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جن خواتین کو اس مرض کی معلومات ہیں، وہ بھی علاج میں ہچکچاہٹ ظاہر کرتی ہیں۔ اس کی وجوہات سماجی و ثقافتی ہیں کیونکہ کوئی عورت کسی ڈاکٹر کے سامنے اپنا معائنہ کرانے میں شرم محسوس کرتی ہے اور ایسا کرنے میں سماجی دباؤ بھی اس کے ذہن پر ہوتا ہے۔

نائجیریا میں چھاتی کے سرطان  سے صحت یاب ہونے والی ایک خاتون حدیزہ عالیہ مانگا نے اپنے ملک کی خواتین تک اس مرض کی معلومات کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ان کی غیر حکومتی تنظیم کا نام حدیبہ کینسر فاؤنڈیشن ہے اور یہ ابوجہ میں قائم ہے۔ حدیزہ عالیہ کا کہنا ہے کہ اس مہم کو شروع کرنے کی قوت خود ان کے اندر پیدا ہونے والے اس مرض سے نجات کے بعد حاصل ہوئی ہے۔

بریسٹ کینسر کے مریضوں کے حوالے سے افریقی ممالک کا ایک سابقہ گرافتصویر: InfografikBrustkrebsAfrikaKrebscancerAfricabreast cancer

حدیزہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کی کوشش ہے کہ ملکی خواتین تک بریسٹ کینسر سے محفوظ رہنے کی معلومات فراہم کی جا سکے اور بتایا جائے کہ انہی معلومات میں اُن کا تحفظ بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈٰیا کے ذریعے بھی معلومات دی جاتی ہیں کہ کس علاقے میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کا مرکز موجود ہے۔ نائجیریا کی بیشتر خواتین نے اس معلوماتی مہم کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

رواں برس کینسر کے 18 ملین نئے کیسز، عالمی ادارہ صحت

یوگنڈا میں بریسٹ کینسر کی شرح

یوگنڈا میں بھی بریسٹ کینسر بارے معلومات اور آگہی کی شرح بہت کم ہے۔ ایک مریضہ نے بتایا کہ وہ اُس وقت بہت کنفیوز تھی جب اس کو ڈاکٹر نے علاج کی تفصیلات دینی شروع کی تھیں۔ اس مرض کی وجہ سے اس مریضہ کی ایک بریسٹ کاٹ دی گئی ہے اور کیموتھراپی بھی کی گئی۔ بریسٹ کینسر کی مریضہ کی چھاتی آپریشن سے کاٹنے کو کلینیکل زبان میں میسٹیکٹومی (mastectomy) کہتے ہیں۔

یوگنڈا کی خواتین میں رحم کا کینسر سب سے زیادہ پایا جاتا ہے اور اس کے بعد وہاں بریسٹ کینسر عام ہے۔ یوگنڈا ویمنز اسپورٹ آرگنائزیشن نے حالیہ برسوں میں کینسر کے بارے میں آگہی کی مہم کو مختلف علاقوں تک پھیلا دیا ہے۔ اس ملک کے پچھتر فیصد کینسر مریض اس وقت مرض کی ابتدائی سطح پر ہیں۔ اموات کی شرح پچاس فیصد سے زائد بتائی جاتی ہے۔

چھاتی کے سرطان کے علاج کے بعد بھی دوبارہ کینسر کا خطرہ

یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں قائم یوگنڈا کنیسر انسٹیٹیوٹ کے انکولوجسٹ ڈاکٹر نولیب موگیشا نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بریسٹ کینسر میں افزائش کی سب سے بڑی وجہ چربی والی خوراک کا زیادہ استعمال اور سہل پسندی کا طرز زندگی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کار کلچر کی وجہ سے لوگوں میں پیدل چلنا کم ہو گیا ہے اور بدن کی حرکات میں کمی واقع ہو چکی ہے۔

ملاوی میں بریسٹ کینسر کی صورت حال

افریقی ملک ملاوی میں بھی بریسٹ کینسر کا مرض پھیل رہا ہے۔ اس مہلک بیماری کا اس ملک میں صرف ایک مرکز ہے اور دارالحکومت لیلونگوے میں واقع ہے۔ اس کا نام کاموزو کینسر ہسپتال ہے۔

اس چارٹ پر ایک ڈاکٹر ایک خاتون کو بریسٹ کینسر کی مختلف اسٹیجز کی تفصیلات فراہم کر رہی ہےتصویر: Christin Klose/Themendienst/dpa/picture alliance

اس ہسپتال میں بھی کوئی خاتون اُسی وقت آتی ہے جب بریسٹ کینسر کا مرض اور اس کی تکلیف اس کی برداشت سے باہر ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر خواتین کینسر ہسپتال اس وقت پہنچتی ہیں جب یہ آخری اسٹیج پر ہوتا ہے۔ اس آخری اسٹیج پر علاج طویل اور پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

سن 2014 میں کی جانے والی ایک ریسرچ کے مطابق ملاوی میں بریسٹ کینسر کی تشخیص پر پانچ سے چھ ماہ درکار ہوتے تھے۔ سات برسوں بعد صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اب تشخیصی عمل تیز رفتار ہو چکا ہو گا۔

خواتین میمو گرافی کروائیں، بریسٹ کینسر سے بچیں

ملاوی میں اس مہلک مرض سے صحت یاب ہونے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس مرض کو ختم یا کنٹرول کرنے کے لیے آگہی بہت ضروری ہے۔ ایک صحت یاب ہونے والی چونسٹھ سالہ خاتون صوفی نسوتھی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ملکی حکومت کے لیے فعال انداز اپناتے ہوئے دور دراز کے دیہات کی خواتین تک اس مرض کی معلومات پہنچانا ضروری ہو گیا ہے۔

ملاوی کی وزارت صحت نے بریسٹ کینسر کی اسکریننگ کو پرائمری ہیلتھ کا جزو بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور تمام خواتین کو اس اسکریننگ کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

اینکے میولز (ع ح/ ک م)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں