1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہافریقہ

افریقہ سے ہجرت روکنے کے لیے، یورپی یونین کا ترقیاتی پروگرام

17 اپریل 2022

یورپی یونین کی ترقیاتی امداد اور ترقیاتی پروگرام ہی افریقہ سے یورپ کی طرف ہجرت کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین کا ترقیاتی پروگرام ’ایمرجنسی ٹرسٹ فنڈ فار افریقہ‘ ان اہداف کو کیسے پورا کرے گا؟

BG Südafrika | Erdrutsch Überflutung
تصویر: ROGAN WARD/REUTERS

یورپی یونین اور اس کے اراکین دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترقیاتی امداد فراہم کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2019 ء میں یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک نے  دنیا بھر میں ترقیاتی کاموں کے لیے 75 بلین یورو کی امداد فراہم کی تھی۔ اس رقم کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ اس وقت بر اعظم افریقہ کو دیا جا رہا ہے۔ غیرمعمولی عدم مساوات کی  وجہ سے افریقی اقوام کی آواز مذاکراتی عمل میں کم طاقت ور ہو جاتی ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک ترقیاتی فنڈز کو اپنے سیاسی ایجنڈوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں، نقل مکانی پر کنٹرول یورپی یونین کے رکن ممالک کی ان کوششوں کی سب سے اہم وجہ رہا ہے۔ 1950ء کی دہائی میں یورپی یونین کے قیام کے بعد سے افریقہ مغربی یورپی ترقیاتی پالیسی کا مرکز رہا ہے۔ افریقہ کے بڑے حصوں پر اب بھی سابقہ یورپی نوآبادیات کے سائے موجود ہیں اور یورپی ترقیاتی فنڈ جیسے ڈھانچے کا مقصد سابقہ سلطنتوں کی ترقیاتی پالیسیوں کو جاری رکھنا تھا۔  ایک معروف مورخ سارہ لورینزینی کہتی ہیں، ''یہ خیال یورپی طرز کی فلاحی ریاستوں کی نو آبادیاتی ممالک یا کالونیوں میں تعمیر کا تھا اور یورپ کے لیے سرد جنگ کے دوران ایک تیسری قوت کے طور پر جغرافیائی سیاسی وزن کو برقرار رکھنے کے لیے یہ پروگرام تشکیل دیا گیا تھا۔‘‘ جیسے ہی افریقی ممالک نے 1960 ء کی دہائی میں آزادی حاصل کرنا شروع کی، ترقیاتی پالیسیوں نے یورپی ممالک کو اس براعظم پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا موقع دے دیا۔

جرمن سکولوں میں ملکی نوآبادیاتی تاریخ کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟

ترقیاتی امداد اب بھی جیو پولیٹیکل آلہ ہے

جہاں جہاں امداد پہنچ رہی ہے وہاں وہاں سیاسی ایجنڈا کی تشکیل کا عمل جاری رہتا ہے۔ گینٹ یونیورسٹی کے سینٹر فار یورپی یونین اسٹیڈیز کے ڈائرکٹر جین اُوربی کہتے ہیں،'' ’’افریقہ میں بنیادی ایجنڈا جیو پولیٹیکل ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں، ترقیاتی پالیسی ہجرت، توانائی کی پالیسی وغیرہ ، تجارت سے زیادہ مربوط ہو گئی ہے۔‘‘ آرگنائزیشن فار اکونامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ( او ای سی ڈی)  کے ذریعہ جمع کردہ سرکاری ترقیاتی امداد کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ  دوسرے عطیہ دہندگان کے مقابلے میں  یورپی یونین کے ادارے اور رکن ممالک صحارا کے شمال میں اپنی ترقیاتی امداد کا بہت زیادہ حصہ خرچ کرتے ہیں۔ صحارا کی ریاستوں کو اکثر یورپی یونین میں داخل ہونے کی خواہش رکھنے والے تارکین وطن کے لیے اصل ٹرانزٹ ریاستیں سمجھا جاتا ہے۔

 

یورپی یونین کے لیے سب سے اہم اور اس کے ممبر ممالک کی توجہ کا مرکز ای یو ایمرجنسی ٹرسٹ فنڈ برائے افریقہ ہے۔ اس نے حال ہی میں اپنی چھ سالہ فنڈنگ کی مدت ختم کی ہے۔ 2015 ء میں غیر قانونی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کے پورپی یونین پہنچنے کے بعد یورپی یونین کے پالیسی ساز اس صورتحال کے دوبارہ رونماہونے سے چوکنا ہو گئے اور انہوں نے مذاکرات کے ذریعے یورپی یونین ٹرسٹ فنڈ  کے لیے ایک 'ہنگامی پروجیکٹ فنڈ میں  پانچ بلین یورو ڈالے۔ جو زیادہ تر موجودہ ترقیاتی فنڈز سے ری ڈائریکٹ کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد زیادہ پارلیمانی نگرانی اور بیوروکریسی کے بغیر

 پیسہ تیزی سے تقسیم کرنا تھا ۔ اُوربی کے بقول،''،ٹرسٹ فنڈ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ EU جب چاہے بہت جلد، موثر اور مربوط طریقے سے کام کر سکتا ہے۔‘‘ اُوربی مزید کہتے ہیں،'' یہ ایک علیحدہ سوال ہے کہ آیا یہ اچھی چیز ہے یا نہیں۔‘‘

یورپی یونین کے امدادی اخراجات کا مستقبل

2021 ء کے آخر میں، افریقہ کے لیے یورپی یونین ٹرسٹ فنڈ  EUTF نے نئے منصوبوں کو قبول کرنا بند کر دیا اور یورپی یونین اپنے ترقیاتی اخراجات کی تنظیم نو کر رہی ہے۔ ای یو ٹی ایف  سمیت متعدد اسکیموں کو اب ایک بڑے فنڈ میں ملایا جائے گا:  The Neighbourhood, Development and International Cooperation Instrument (NDICI) یہ 2021 ء  سے 2027ء تک کی فنڈنگ کی مدت کے لیے 80 بلین یورو پر محیط ہے فنڈ ہے، جس میں سے 10 فیصد  مائیگریشن مینجمنٹ پروگراموں کے لیے مختص ہے۔ یورپی تھنک ٹینک ECDPM میں مائیگریشن پروگرام کی سربراہ انا نول کے بقول،'' یورپی یونین اپنی گہری توجہ مائیگریشن گورننس پر مبذول رکھتی ہے تاہم ایڈ فنڈز کو افریقہ میں اپنے مفادات پر کام کو جاری رکھنے کے لیے بطور ایک آلہ کار استعمال کرتی ہے۔‘‘

محی الدین، شاخٹ، کیرا) ک م، ع ت(

    

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں