جنوبی افریقہ کے حالیہ انتخابات کے نتائج انتہائی غیر واضح
3 جون 2024
گزشتہ ہفتے جنوبی افریقہ میں ہونے والے الیکشن کے حتمی نتائج کا اعلان اتوار کو کر دیا گیا، جس کے مطابق ملکی سیاست پر 30 سال تک تسلط قائم رکھنے والی افریقی نیشنل کانگریس( اے این سی) اکثریت حاصل نہ کر پائی۔
گزشتہ الیکشن میں 58 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی اے این سی کو اس بار محض 40 فیصد ووٹ ملے۔ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک الائنس ( ڈی اے) 21 فیصد جبکہ سابق صدر جیکب زوما کی امکونٹو وے سیز وے (ایم کے) پارٹی کو 14 فیصد ووٹ ملے۔ اس طرح کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل نہ ہونے کے سبب کیپ ٹاؤن میں مخلوط حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں کے مابین بے مثال مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔
دریں اثناء جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے ملکی جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اختلافات کو دور کر کے ''مشترکہ مفادات‘‘ کے حصول کے لیے کوششوں کریں۔
جنوبی افریقہ میں پہلی بار ایک قومی مخلوط حکومت بنانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اے این سی اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسے دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر متفق ہونا پڑے گا جبکہ صدر رامافوسا کو دوسری مدت کے لیے منتخب کرنے میں بھی دیگر اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔
جنوبی افریقہ کے قومی انتخابات کے ذریعے ہی یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ میں ہر پارٹی کو کتنی سیٹیں ملیں اور بعد ازاں قانون ساز ملک کے صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔
الیکشن کے بعد کا سیاسی منظر نامہ
جنوبی افریقہ میں اس وقت چار بڑی سیاسی جماعتیں اور کم از کم آٹھ دیگر پارٹیاں ہیں، جنہوں نے گزشتہ ہفتے کے انتخابات میں خاطر خواہ تناسب سے ووٹ حاصل کیے ہیں۔
چند اہم شخصیات
ماضی میں نیلسن منڈیلا کے حامی 71 سالہ رامافوسا کو اس وقت اے این سی کی تاریخ کے بدترین انتخابی نتیجے اور اپنی پارٹی کے اندر اور ووٹرز کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رامافوسا کو جس چیلنج کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی ایسے اتحاد کی طرف رہنمائی کریں جسے وہ اے این سی کے اندر اور مختلف دھڑوں کے درمیان سب سے مناسب بلکہ بہترین سمجھتے ہیں۔
ان کا واضح ترین انتخاب مرکزی اپوزیشن ڈیموکریٹک الائنس ہے۔ اس کے ساتھ غالباً ان کی پارٹی کو حکومت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں کافی نشستیں مل سکتی ہیں لیکن ڈی اے برسوں سے اے این سی کی پالیسیوں کی سخت ناقد رہی ہے۔ گرچہ یہ دونوں جماعتیں مذاکرات کے لیے کھلے دل سے رضامندی کا اظہار کر چُکی ہیں تب بھی ان کا اتحاد کوئی آساں امر نہیں ہوگا۔
جان سٹین ہائزن
48 سالہ سٹین ہائزن حزب اختلاف کے مرکزی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ سینٹرسٹ ڈی اے اور چار اہم جماعتوں میں واحد سفید فام رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی ایم کے اور ای ایف ایف ڈی اے کے سوا مختلف جماعتوں سے بات چیت شروع کر رہی ہے۔
اُدھر ڈیموکریٹک الائنس نے کہا ہے کہ وہ ان دونوں پارٹیوں کے ساتھ نظریاتی اختلافات کے سبب کبھی کام نہیں کرے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جان سٹین ہائزن کی پارٹی ڈی اے اور رامافوسا کی اے این سی کے اشتراک سے حکومت بنانے کا آپشن سب سے زیادہ مستحکم معلوم ہوتا ہے۔ چند دیگر تجزیہ کاروں کی تجویز یہ ہے کہ دیگر چھوٹی جماعتوں کو ملا کر ایک وسیع تر اتحاد بنایا جائے۔
جیکب زوما
جنوبی افریقہ کے سابق صدر جیکب زوما اس وقت تک اے این سی کے رہنما اور جنوبی افریقہ کے صدر تھے، جب تک راما فوسا نے ان دونوں عہدوں پر ان کی جگہ نہیں سنبھال لی۔ رامافوسا کے حریف 82 سالہ جیکب زوما نے دسمبر میں اپنی سیاسی واپسی کا اعلان کیا تھا۔
زوما کی نئی بننے والے ایم کے پارٹی نے اپنے پہلے الیکشن میں ہی 14فیصد ووٹ جیت کر جنوبی افریقہ کی سیاست پر بہت بڑا اثر ڈالا۔ یہ تیسری بڑی پارٹی بن ابھری ہے۔ زوما کی پارٹی نے اتحاد بنانے کے لیے ایک شرط کے طور پر رامافوسا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے جو ان کی رامافوسا کے ساتھ ذاتی دشمنی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس شرط کو تاہم اے این سی نے مسترد کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ زوما کو ان کے مجرمانہ ریکارڈ کے سبب الیکشن میں پارلیمانی نشست کے لیے انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا تھا۔
جولیس مالیما
مالیما کی ''اکنامک فریڈم فائٹرز‘‘ پارٹی (ای ایف ایف) چوتھے نمبر پر رہی۔ اس طرح یہ جنوبی افریقہ کی لفٹ ونگ پاپولسٹ پارٹی ایم کے سے پیچھے رہ گئی۔
43 سالہ جولیس مالیما جنوبی افریقہ کے بڑے لیڈروں میں سب سے کم عمر سیاسی رہنما ہیں۔ ان کے اے این سی کے ساتھ بطور نوجوان لیڈر پرانے تعلقات ہیں۔ شعلہ بیان جولیس مالیما کی پارٹی مارکسی نظریے کی پیروی کرتی ہے تاہم اس کی اے این سی اور ای ایف ایف کے ساتھ چند قدریں مشترک ہیں۔
ک م/ ع ت (اے پی)