1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان: امریکی فوجی کتنی بڑی تعداد میں موجود رہیں گے؟

Imtiaz Ahmad4 جنوری 2013

امریکی فوجی افغانستان میں سن 2014ء کے بعد کتنی بڑی تعداد میں موجود رہیں گے ؟ یہ اہم فیصلہ آئندہ ہفتے صدر کرزئی اور باراک اوباما کے مابین ہونے والے مذاکرات میں ہو سکتا ہے۔

تصویر: N/A

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دفاعی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے تین تجاویز پیش کیں ہیں۔ ان کے تحت سن 2014ء کے بعد چھ ہزار، 10 ہزار یا 20 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں قیام کر سکیں گے۔ آئندہ برس افغانستان میں نیٹو کا جنگی مشن اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے اس لیے افغانستان پر منڈلاتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے وہاں امریکی فوجیوں کی طویل عرصے تک تعیناتی کی بات کی جا رہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں رہ جانے والے امریکی فوجیوں کی محدود تعداد القاعدہ پر توجہ مرکوز رکھے گی تاکہ یہ تنظیم دوبارہ وہاں پر اپنے قدم نہ جما سکے۔

ایک امریکی اہلکار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمیں امید ہے کہ صدر کرزئی کے دورے کے دروان ہم کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے اور اس کا اعلان بھی کر دیں گے۔‘‘ اس اہلکار کے مطابق صدر اوباما افغانیوں کو یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ ان کے اتحادی امریکی ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔

باراک اوباما کی صدر کرزئی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں سب سے اہم موضوع سن 2014 کے بعد امریکی فوجیوں کی تعینانی ہوگاتصویر: Reuters

اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں طالبان کے زیر قیادت ہونے والی بغاوت سے نمٹنے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار سے کم ہو کر ایک لاکھ تک رہ گئی ہے۔ فی الحال افغانستان میں 66 ہزار کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں، قبل ازیں ان کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی۔

پینٹاگان کے ایک ترجمان جارج لٹل نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر کرزئی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں سب سے اہم موضوع سن 2014 کے بعد امریکی فوجیوں کی تعینانی ہوگا۔

صدر کرزئی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی حمایت کر چکے ہیں لیکن چند حساس نوعیت کے معاملات پر ابھی بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکی فوجیوں کو کسی بھی قانونی کارروائی سے استثنیٰ دینے اور قیدیوں کو افغانستان کے سکیورٹی دستوں کے حوالے کرنے پر ابھی بھی مذاکرات جاری ہیں۔

کرزئی کے نائب ترجمان سیامک هروی نے کہا ہے کہ آئندہ پیر کی بات چیت کے دوران حتمی سیکورٹی معاہدے پر مزید پیش رفت کی امید ہے۔

امریکن انسٹی ٹیوٹ آف افغانستان اسٹڈیز سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار عمر شرفی کا کہنا ہے، ’’مسئلہ صرف امریکی فوجیوں کی تعداد کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کا کردار کیا ہوگا ؟ کیا وہ حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھی حملے کریں گے؟‘‘

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر کرزئی سن 2014ء کے بعد امریکی فوجیوں کو قانونی تحفظ دینے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

عراق جنگ کے خاتمے کے بعد وہاں بھی امریکی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی لیکن بغداد حکومت کی طرف سے امریکی فوجیوں کو استثنیٰ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ’بقایا فوجیوں‘ کو بھی وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔

ia/aba (AFP)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں