1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

افغانستان اور پاکستان کے مابین جھڑپیں، کشیدگی پھر بڑھ گئی

جاوید اختر ڈی پی اے اور اے پی کے ساتھ
28 اپریل 2026

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار لڑائی میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا ہے، جو حالیہ فائر بندی کے باوجود کشیدگی میں ایک نئی شدت کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک زخمی شخص کا 27 اپریل 2026 کو افغانستان کے صوبہ کنڑ کے اسدآباد صوبائی اسپتال میں علاج چل رہا ہے
گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بار بار بڑھتی رہی ہے۔تصویر: Qazafi Mal/Xinhua/picture alliance

افغان حکام نے منگل کے روز بتایا کہ پیر کے دن پاکستان نے مارٹر گولوں اور میزائلوں سے شمال مشرقی افغانستان میں ایک یونیورسٹی اور کئی شہری مکانات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور کم از کم 85 زخمی ہو گئے۔ پاکستان نے کسی یونیورسٹی یا رہائشی مکانات کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔

افغانستان کی وزارت اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ اس یونیورسٹی پر حملے میں تقریباً 30 طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوئے اور عمارتوں اور کیمپس کو شدید نقصان پہنچا۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں کہا، ''پاکستان کے حملے درستی سے اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور اس مرتبہ بھی صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سید جمال الدین افغان یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ حملوں کے دعوے بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔‘‘

اسی دوران پاکستانی کی جانب کی گئی افغان فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم تین شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پاکستان کی سرحدی فورسز کے ترجمان نے جنوبی وزیرستان میں پیش آنے والے اس واقعے کو ایک ماہ سے زائد عرصہ پہلے ہونے والی فائر بندی کے آغاز کے بعد سے سب سے سنگین جھڑپ قرار دیا ہے۔

افغانستان کی طلوع نیوز کے ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے اتوار کے روز پاک افغان سرحد کے نواح میں افغان شہر سپن بولدک کے قریب 'باب دوستی‘ کے پاس ایک بچے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد طالبان فورسز کی سپن بولدک میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جس کے نتیجے میں تازہ لڑائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پیر کے روز کیے گئے حملے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے والی پاک افغان امن کوششیں کتنی نازک ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP

کشیدگی میں اضافہ

گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بار بار بڑھتی رہی ہے۔ اس دوران سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔ فروری میں پاکستان نے کہا تھا کہ وہ افغانستان کے ساتھ 'کھلی جنگ‘ کی حالت میں ہے، جس سے عالمی برادری میں تشویش پیدا ہو گئی تھی۔

افغان اور پاکستانی حکام نے اپریل کے اوائل میں چین کے مغربی شہر اُرمچی میں ملاقات کی تھی اور اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنے تنازعے کو مزید نہیں بڑھائیں گے اور ’’جامع حل تلاش کریں گے۔‘‘

پیر کے روز کیے گئے حملے ان مذاکرات کے بعد پہلے بڑے حملے تھے، جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے والی پاک افغان امن کوششیں کتنی نازک ہیں۔ چین کے علاوہ، ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی مختلف اوقات میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں شامل رہے ہیں۔

افغان اور پاکستانی حکام نے اپریل کے اوائل میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنے تنازعے کو مزید نہیں بڑھائیں گے اور ’’جامع حل تلاش کریں گےتصویر: Stringer/REUTERS

الزام اور جوابی الزام

دونوں ممالک کے مابین لڑائی بڑی حد تک مارچ میں کم ہو گئی تھی، جب دونوں ہمسایوں نے عیدالفطر کے اسلامی تہوار کے موقع پر عارضی فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔ یہ فائر بندی 17 مارچ کو کابل میں منشیات کے مریضوں کے علاج کے ایک مرکز پر ہونے والے اس مہلک پاکستانی فضائی حملے کے بعد ہوئی تھی، جس کے بارے میں افغانستان کا کہنا تھا کہ اس میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے تاہم تب بھی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی اور ان ہلاکتوں کی تعداد سے شدید اختلاف کیا تھا۔

پاکستان افغانستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اپنے ہاں جنگجوؤں اور خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کو پناہ دیتا ہے، جو پاکستان کے اندر مہلک حملے کرتے ہیں۔ پاکستانی طالبان کا یہ کالعدم گروہ اس افغان طالبان تحریک سے الگ لیکن اس کا اتحادی ہے، جس نے 2021 میں امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ پاکستان دشمن عسکریت پسندوں کو اپنے ہاں پناہ دیتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے روز افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے وزارت خارجہ کے انسٹیٹیوٹ آف ڈپلومیسی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ''دونوں ممالک کے درمیان مسائل بہت حساس نوعیت کے ہیں، کیونکہ یہ دو ہمسایہ اور اسلامی ممالک ہیں، اس لیے ان کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ سلوک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

اس ماہ کے اوائل میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کے مطابق اس تنازعے کے باعث مجموعی طور پر 94,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں