افغانستان: جرمن فوجی کی ہلاکت
6 مئی 2013
جرمن دارالحکومت برلن سے اتوار کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ افغانستان میں ایک جرمن فوجی کی ہلاکت ہوئی ہے۔ جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ایک دوسرا جرمن فوجی زخمی بھی ہوا ہے۔ ہلاک ہونے والے جرمن فوجی کا تعلق اسپیشل فورسز یا کمانڈو گروپ سے تھا۔ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی کے بعد جرمن اسپیشل فورسز کا یہ پہلا فوجی ہلاک ہوا ہے۔ تقریباً دو سال بعد شورش زدہ اور مزاحمت کاروں کی مسلح کارروائیوں کے ملک افغانستان میں کسی جرمن فوجی کی ہلاکت ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق افغان فوج کی قیادت میں جاری ایک فوجی آپریشن میں جرمن فوجی بھی شریک تھے۔ یہ فوجی قافلہ جب بغلان صوبے میں داخل ہونے لگا تو مزاحمت کاروں کی جانب سے شدید فائرنگ شروع کر دی گئی۔ خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کے علاوہ فوجی قافلے پر دستی بم اور راکٹ بھی داغے گئے۔ فوجی قافلے نے فضائی مدد بھی طلب کی۔ اس شدید حملے میں زخمی ہونے والا جرمن فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ تھوماس ڈے میزیئر نے یہ بھی بتایا کہ زخمی ہونے والے دوسرے جرمن فوجی کی حالت تسلی بخش ہے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جرمن فوجی اڈے سے چھبیس کلومیٹر کی دوری پر ہونے والی شدید لڑائی میں کئی مزاحمت کار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان ہلاکتوں کی ابھی تصدیق ہونا باقی ہے۔ جرمن فوجی مرکز بغلان صوبے کے اسی نام کے صدر مقام کے نواح میں واقع ہے۔ فوجی قافلے میں شریک افعان فوج کے ہلاک یا زخمی ہونے والے اہلکاروں کی بھی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ اس جرمن فوجی کی ہلاکت کی خبر ہفتے کے روز آ گئی تھی لیکن تب شناخت کی معلومات دستیاب نہیں ہوئیں تھیں۔
جرمن اسپیشل فورسز بھی امریکی کمانڈوز کی خصوصی فوج سیل (SEAL) کی طرح جدید تربیت کی حامل خیال کیا جاتا ہے۔ اس کے ایک ہزار فوجی افغانستان میں متعین ہیں۔ افغانستان میں ہلاک ہونے والے جرمن فوجیوں کی تعداد اب 53 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل جون سن 2011میں جرمن فوجی کی ہلاکت ہوئی تھی۔ افغانستان میں جرمن فوجیوں کی تعداد چار ہزار سے زائد ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران کُل 22 غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت کا بتایا گیا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاست کرغیزستان کے ساتھ ملحقہ سرحد کے قریب بھی تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ یہ فوجی کرغیزستان میں طیارہ گرنے کے دوران مارے گئے تھے۔ ہفتے کے روز سات امریکی فوجیوں کی دو حملوں میں ہلاکت کا پہلے ہی چرچا ہو چکا ہے۔ جرمن دارالحکومت برلن میں وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر نے پچھلے ہفتے کو انتہائی تلخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے کو کسی طور بھلایا نہیں جا سکے گا۔
(ah/sks(AP, Reuters