افغانستان: حجاب مخالف مظاہرین پر فائرنگ، متعدد افراد زخمی
10 جون 2026
افغانستان کے شہر ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف منگل کے روز ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے طالبان سکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ طور پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 150 افغان مرد مغربی شہر ہرات میں جمع ہوئے تھے تاکہ ان ایک درجن سے زائد خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر سکیں جنہیں گزشتہ ہفتے مکمل چادر یا چہرہ ڈھانپنے والے برقع کے بغیر عوامی مقامات پر آنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ایک عینی شاہد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے ''لاٹھیوں، کوڑوں اور اسلحے‘‘ کا استعمال کیا۔ اس کے بقول، ''انہوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔‘‘
ایک اور عینی شاہد نے بھی فضا میں فائرنگ ہوتے دیکھی۔ اس نے کہا، ''کئی لوگ زخمی ہوئے۔ میں نے سڑک پر خون بھی دیکھا۔‘‘
تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ زخمی افراد گولیوں سے زخمی ہوئے یا لاٹھیوں کی مار سے، اور نہ ہی زخمیوں کی درست تعداد کی تصدیق ہو سکی ہے۔
احتجاجی مظاہرے کو کوریج کرنے والے ایک فوٹوگرافر نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے سکیورٹی اہلکاروں کو ''مظاہرین کو مارتے اور ہجوم کی جانب ہتھیار چلاتے‘‘ دیکھا۔ اس کے مطابق، ''خاصی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔‘‘
دوسری جانب ہرات پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ کچھ افراد نے حجاب سے متعلق قوانین کے خلاف احتجاج کے بہانے جمع ہو کر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
ترجمان کے مطابق،''سکیورٹی فورسز کی بروقت موجودگی کی بدولت صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں کر لیا گیا اور مزید کشیدگی کو روک دیا گیا۔‘‘
طالبان کے دور حکومت میں احتجاج
رپورٹس کے مطابق اس احتجاج کا اہتمام سوشل میڈیا کے ذریعے کیا گیا تھا، جہاں شہریوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ''اپنی بہنوں کے حقوق کے دفاع‘‘ کے لیے باہر نکلیں۔
افغانستان میں اس نوعیت کی شہری مزاحمت شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔2021 میں امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد، جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آ ئے، تب سے انہوں نے شریعت کی اپنی سخت تشریح کے مطابق قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔
ان ضوابط میں خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں شامل ہیں، جن کے تحت پرائمری تعلیم سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر قدغن اور خواتین کے لباس سے متعلق سخت قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔
ان قوانین پر عمل درآمد طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بدنام زمانہ 'اخلاقی پولیس‘ کے ذریعے کرایا جاتا ہے۔ حکومت کے خلاف اختلاف رائے برداشت نہیں کیا جاتا اور سرکاری فیصلوں کے خلاف احتجاج غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ''ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام باتیں محض افواہیں ہیں۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ حجاب پہننا ’’حکم الٰہی‘‘ہے اور ''یہ ایک ایسا قانون ہے جس پر عمل درآمد کرانا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے ایک انسانی حقوق کے نگران ادارے کے نمائندے نے بتایا کہ انہوں نے جمعہ سے اب تک ہرات میں لباس سے متعلق ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر کم از کم 16 خواتین کی گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان ریسرچر، فرشتہ عباسی، نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ''مہلک طاقت کے استعمال‘‘ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے نامناسب لباس کے نام پر خواتین کی ''من مانی گرفتاریوں‘‘ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
فرشتہ عباسی نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ''پرامن احتجاج میں حصہ لینے کے باعث گرفتار کیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کریں اور زخمیوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم کریں۔‘‘
دریں اثنا، افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی تحقیق کار، رچرڈ بینیٹ، نے کہا کہ وہ ہرات میں بظاہر پرامن مظاہرین کے خلاف ''ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال‘‘ پر فکر مند ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تشدد کے ذمہ دار عناصر کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا، ''اب وقت آ گیا ہے کہ کشیدگی کو کم کیا جائے، شہریوں بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی آزادیِ اظہار کا احترام کیا جائے، اور مزید نقصان سے بچا جائے۔‘‘
ادارت: کشور مصطفیٰ