1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان خود کُش حملہ: احمد خان سمنگانی سمیت 23 ہلاک

15 جولائی 2012

آج شمالی افغانستان میں ایک خود کُش حملہ آور نے شادی کی ایک تقریب میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ہلاک ہونے والے کم از کم 23 افراد میں ممتاز رکن پارلیمان احمد خان سمنگانی بھی شامل ہیں۔

ممتاز رکن پارلیمان احمد خان سمنگانیتصویر: Qanun

ازبک نسل کے احمد خان سمنگانی صوبے سمنگان کے دارالحکومت ایبک میں اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں  موجود تھے اور مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے، جب اُن کے ساتھ گلے ملتے وقت خود کُش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔

اگرچہ طالبان نے دو مئی کو موسمِ بہار کے حملوں کے آغاز کا اعلان کرتے وقت ایک بار پھر یہ کہا تھا کہ وہ کرزئی حکومت اور امریکی سرکردگی میں سرگرم عمل اتحادی افواج کی حمایت کرنے والے ہر شخص کو نشانہ بنائیں گے، تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، ’’اس معاملے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ احمد خان سمنگانی مجاہدین کا کمانڈر رہ چکا ہے، وہ بدنام تھا اور بہت سے لوگوں کو اُس سے عناد ہو سکتا تھا‘‘۔

احمد خان سمنگانی صوبے سمنگان کی ایک طاقتور سیاسی شخصیت گردانے جاتے تھے۔ وہ 80ء کے عشرے کے دوران مجاہدین کے ایک کمانڈر کی حیثیت سے سابق سوویت قابض افواج کے خلاف برسرِپیکار رہے جبکہ 1996ء سے لے کر 2001ء تک اُنہوں نے طالبان کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ وہ گزشتہ سال ہی قومی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

طالبان نے اس حملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہےتصویر: DW

جنوبی اور مشرقی افغانستان کے مقابلے میں شمالی افغانستان کو قدرے پُرامن تصور کیا جاتا ہے اور شمالی افغانستان کے کچھ حصوں میں شادی کی تقاریب علی الصبح منعقد کرنے کا رواج پایا جاتا ہے۔

ایبک میں جرائم کی تحقیقات کے شعبے کے ڈائریکٹر محمد نواب شیر زئی کے مطابق جس وقت یہ حملہ ہوا، زیادہ تر مقامی مہمان شادی ہال کی سہ منزلہ عمارت کی دوسری اور تیسری منزل میں جمع ہو چکے تھے۔ احمد خان سمنگانی اپنے دیگر رشتے داروں اور بزرگوں کے ہمراہ پہلی منزل پر موجود تھے اور ہمسایہ صوبے بلخ کے دارالحکومت مزارِ شریف سے آنے والے مہمانوں کا خیر مقدم کر رہے تھے۔

شیر زئی کے مطابق:’’اچانک وہ حملہ آور، جو مزارِ شریف سے آنے والے مہمانوں میں شامل تھا، احمد خان سمنگانی کے بہت ہی قریب چلا گیا اور اُس نے اپنی بارودی جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ بہت شدید دھماکہ ہوا، جو اتنا طاقتور تھا کہ تیسری منزل پر بھی لوگ زخمی ہو گئے۔‘‘

شیر زئی نے مزید بتایا:’’کوئی ادھر کو بھاگ رہا تھا، کوئی اُدھر کو۔ دَس منٹ تک کسی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ ہوا کیا ہے۔ ہر طرف سیاہ دھواں پھیلا ہوا تھا۔ کوئی دس منٹ کے بعد لوگوں کو لاشیں نظر آنا شروع ہوئیں اور اُنہوں نے زخمیوں کی مدد کرنا شروع کی۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں انٹیلیجنس کے شعبے کے صوبائی سربراہ کے ساتھ ساتھ افغانستان کی قومی فوج کا ایک ڈویژن کمانڈر بھی شامل ہے۔ زخمی ہونے والے درجنوں افراد میں افغانستان پولیس کے مغربی علاقائی کمانڈر جنرل سید احمد سامع بھی شامل تھے، جو بعد ازاں اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ وہ احمد خان سمنگانی کے ایک قریبی عزیز بھی تھے۔

سن 2014ء میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد ملک کو ایک بار پھر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آنے سے بچانے اور طالبان کے ساتھ مفاہمتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے افغان صدر حامد کرزئی کو شمالی اتحاد کی حمایت درکار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ پشتون ملکی آبادی کا 42 فیصد ہونے کی بناء پر سب سے بڑا قومی گروپ ہیں لیکن تاجک، ہزارہ اور ازبک اقلیتیں اور دیگر چھوٹے چھوٹے گروپ مل کر تعداد میں پشتونوں سے زیادہ بنتے ہیں۔ افغان حکام آج کے واقعے کو افغانستان میں بسنے والے مختلف النسل دھڑوں کے مابین اتحاد کے لیے ایک بڑے دھچکے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

aa/ab (ap, rtr)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں