1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان: سرحد پار سے حملے اور امریکہ کو درپیش خطرات

20 ستمبر 2011

افغانستان میں واقع وادی ہندوکش کے ایک پہاڑ کی چوٹی پر قائم فوجی پوسٹ ’کامبیٹ آؤٹ پوسٹ مونٹی‘ گو کہ ایک سناسان جگہ پر قائم ہے، تاہم یہ افغانستان کا خطرناک ترین علاقہ بھی ہے۔

امریکہ نے کابل حملوں کی ذمہ داری حقانی گرپ پر عائد کی ہےتصویر: dapd

یہ امریکی چیک پوسٹ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ میں قائم ہے۔ اس چیک پوسٹ کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والے عسکریت پسندوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔ پاکستانی سرحد یہاں سے محض تیرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نیٹو اور افغان حکومت کے مطابق پاکستانی طالبان عموماً اسی راستے سے افغانستان میں دراندازی کرتے ہوئے افغانستان میں پر تشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کابل میں امریکی سفارت خانے پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد تو صورت حال مزید گھمبیر ہو گئی ہے۔ اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار واضح طور پر اس حملے کی ذمہ داری افغانستان کی سرحد سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پناہ لیے ہوئے حقانی گروپ پر عائد کر رہے ہیں۔ مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ پاکستانی حکومت پر عسکری گروہ حقانی گروپ کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہیں۔ بعض پاکستانی مبصرین بھی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور حقانی گروپ کے درمیان روابط کی تصدیق کرتے ہیں۔ اسلام آباد ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ پاکستانی حکومت پر عسکری گروہ حقانی گروپ کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہیںتصویر: dapd

پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ افغانستان سے ملحق اپنی سرحد کو مکمل طور پر بند یا اس کی نگرانی نہیں کرسکتا ہے۔ اسلام آباد کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرحدی حدود کی حفاظت کرے۔ پاکستان کو یہ بھی شکایت ہے کہ افغانستان سے عسکریت پاکستان میں داخل ہو کر اس کے فوجیوں اور عوامی مقامات پر حملے کرتے ہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کابل میں امریکی ایمبیسی پر حملے کے بعد اب معاملہ بے حد سنجیدہ ہو گیا ہے۔ امریکہ اب پاکستانی حکومت پر فیصلہ کن دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ وہ حقانی گروپ کے خلاف فوجی آپریشن کرے ورنہ عین ممکن ہے کہ امریکہ از خود یہ کارروائی کرے۔ مبصرین کے مطابق اگر امریکہ نے یک طرفہ کارروائی کا فیصلہ کیا تو پاکستان کے ساتھ اس کے پہلے سے کھنچاؤ کے شکار تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں