1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں امن پاکستانی فوج کی ’اولین ترجیح‘

23 دسمبر 2012

پاکستان کے فوجی اور مغربی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی افغانستان میں امن کے لیے وہاں موجود تمام گروپوں کو مفاہمت اور مذاکرات پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔

تصویر: dapd

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اسلام آباد حکومت کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ روئٹرز نے پاکستانی قبائلی علاقے میں تعینات ایک کمانڈر کے حوالے سے کہا ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو خدشہ ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجوں کے انخلا کے بعد وہاں انتشار کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان میں امن کے قیام کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں تعینات پاکستانی فوج کے ایک سینیئر افسر کے مطابق، ’ایک وقت تھا جب افغانستان ہمارے ہاتھ میں تھا، مگر اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان افغانوں کے ہاتھ میں ہو اور ہم اپنے مسائل پر توجہ دے سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس وہ طاقت موجود ہے کہ وہ افغانستان میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دے، جس میں افغانستان میں تمام گروہ مفاہمت پر آمادہ ہو سکیں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے افغانستان میں امن کو اولین ترجیح قرار دیاتصویر: DW

افغان سرحد سے 30 کلومیٹر دور جنوبی وزیرستان کے شہر وانا میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس افسر کا کہنا تھا کہ پاکستان اس سلسلے میں انتہائی اعلیٰ سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

روئٹرز نے ایک پاکستانی خفیہ اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں ماہ کی سات تاریخ کو راولپنڈی میں پاکستان فوج کے ہیڈکوارٹرز میں فوجی کمانڈروں سے خطاب میں جنرل کیانی نے کا کہنا تھا، ’افغانستان میں مفاہمتی عمل اولین ترجیح ہے۔‘

روئٹرز کے مطابق جنرل کیانی کی مدد سے اگر افغانستان میں حقیقی معنوں میں مفاہمتی عمل شروع ہو گیا، تو باراک اوباما امریکی انتظامیہ سے کہہ پائیں گے کہ پاکستان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ افغانستان میں امن کو اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا مقصد قرار دیا جا رہا ہے۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ دوسری جانب افغان حکام جو پاکستان پر ایک لمبے عرصے سے طالبان کی عسکری اور مالی امداد کا الزام عائد کرتے ہیں، اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی جنرل کیانی حقیقی معنوں میں افغانستان میں مذاکراتی عمل کے آغاز پر آمادہ ہیں۔

یورپی یونین کے ایک رکن ملک کے ایک سفارت کار کے حوالے سے روئٹرز کا کہنا ہے، ’اب لگتا ہے کہ پاکستانی حکام واقعی افغانستان کے مسئلے کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ ہم نے اس سلسلے میں پاکستانی گیم پلان میں ایک واضح تبدیلی دیکھی ہے۔‘

روئٹرز نے کیانی کے خطاب کے حوالے سے کہا ہے، ’ایک قوم کی حیثیت سے ہم ایک اہم دور سے گزر رہے ہیں، جہاں ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہے اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی ہے۔‘

at/sks (Reuters)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں