1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں بچھی بارودی سرنگیں

Zubair Bashir8 مارچ 2013

افغانستان میں کام کرنے والے ایک ادارے مائین ایکشن سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں، ہر ماہ اوسطا پینتالیس افراد، بارودی سرنگوں کے پھٹنے کی وجہ سے ہلاک یا مستقل جسمانی معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

Projekt Mine Kafon zur Minenbekämpfung
تصویر: Massoud Hassani

گزشتہ برس دسمبر میں اس حوالے سے جنیوا میں ہونے والے ایک اجلاس میں یہ طے پایا تھا کہ 2023ء تک افغانستان کو مکمل طور پر بارودی سرنگوں سے پاک کردیا جائے گا۔

اب تک کے مختلف جائزوں کے مطابق افغاستان میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام افسوسناک حد تک سست روی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کا مائین ایکشن سینٹر افغانستان کو 2013 ء تک بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر افغانستان کے مختلف علاقوں میں تحفظ و سلامتی کی تشویشناک صورت حال کی وجہ سے سے اس عمل کی بروقت تکمیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

افغانستان میں بڑی حد تک بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے بچاؤ کے حوالے سے، غیر سرکاری تنظیموں نے بھی، لوگوں کو آگاہی فراہم کی ہے، جس کی وجہ سے، حادثات میں واضح کمی آئی ہے لیکن اس وقت بھی افغان سرزمین کے بڑے حصے پر بارودی سرنگیں موجود ہیں۔

بارودی سرنگوں اور اس طرح کے دیگر دھماکا خیز مواد کی وجہ سے ہر ماہ قریب تین ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہو جایا کرتے تھےتصویر: Cluster Munitions Coalition

افغان دارلحکومت میں ریڈکراس کی جانب سے مصنوعی اعضاء لگانے کا ادارہ قائم کیا گیا ہے جہاں افغانستان بھر سے مختلف حادثات میں اپنے اعضاء گنوا بیٹھنے والوں کو مفت اعضا لگائے جاتے ہیں۔

یہاں آنے والے غلام صدیق نے خبر رساں ادارے آئی پی ایس کو بتایا کہ وہ شام کے وقت گھاس کاٹنے کے لیےگیا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں وہاں نصب بارودی سرنگ پر آگیا۔ صوبے ننگر ہار سے تعلق رکھنے والے صدیق کا کہنا تھا، ’میں نے دھماکے کی آواز سنی اور پھر مجھےکوئی ہوش نہ رہا کہ کیا ہوا ہے۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے خود کو ایک ہسپتال میں پایا، مجھے بتایا گیا کہ میری ایک ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کاٹ دی گئی ہے۔ میرے لیے یہ ایک اذیت ناک لمحہ تھا، میں نے اپنے خدا سے گلہ کیا کہ ایک طرف غربت اور دوسری طرف یہ عمر بھر کی معذوری، پھر میں نے اس حادثے کو خدا کی رضا سمجھ کر قبول کرلیا۔

ایسی ہی کہانی دارالحکومت کابل کے ایک قریبی علاقے کے رہائشی باز محمد خان کی ہے جو بارودی سرنگ کا شکار ہو کر اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھا۔

2023ء تک افغانستان کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا ہدف پورا کرلیا جائےگاتصویر: AP

افغانستان میں بارودی سرنگوں سے نجات کے لیے ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں افغان صوبے ہرات میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے کام کا آغاز کر نے سے قبل ایک میٹنگ میں افغان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر دائم کاکڑ نے بتایا کہ اس علاقے میں پانچ سو ننانوے مربع کلومیٹر کے علاقے پر بارودی سرنگیں بچھائی گئیں تھیں۔

کاکڑ نے کہا کہ تین سال پہلے بارودی سرنگوں اور اس طرح کے دیگر دھماکا خیز مواد کی وجہ سے ہر ماہ قریب تین ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہو جایا کرتے تھے اور اب صورت حال کافی بہتر ہوچکی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہرات کو 2018ء تک بارودی سرنگوں سے پاک کردیا جائے گا۔

افغانستان میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے مختلف ادروں کا خیال ہے کہ 2023ء تک افغانستان کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا ہدف پورا کرلیا جائےگا لیکن اس وقت تک نامعلوم ان سرنگوں کی وجہ سے کتنے لوگ جان سے جائیں گے اور کتنے معذور ہوں گے۔

zb/ng(IPS)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں