1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں شادیوں پر اخراجات کم کرانے کا قانون

2 جنوری 2013

فغانستان ميں شاديوں پر بے تحاشہ خرچ کو روکنے کے ليے بنائے جانے والے ايک قانون کی پابندی کرانے ميں مشکلات پيش آ رہی ہيں۔

تصویر: picture-alliance/Ton Koene

افغانستان کے ايک اعلٰی حکومتی مشير نے کہا کہ دنيا کے غريب ترين ممالک میں سے ایک افغانستان ميں شاديوں کے حد سے زيادہ اخراجات کو کم کرنے کے مجوزہ قانون کی مخالفت بہت سے قانون ساز يعنی اراکين پارليمان بھی کر رہے ہيں۔

2001 ميں بچت پر بہت زور دينے والی طالبان حکومت کے امريکی فوج کے ہاتھوں خاتمے کے بعد افغانوں نے بہت پر تعيش انداز ميں شادیوں کی تقريبات منانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر ديا جن پر ہزاروں ڈالر خرچ کيے جاتے ہيں۔ يہ ايک ايسے ملک ميں ہو رہا ہے جس ميں اوسط سالانہ آمدنی 400 ڈالرز سے بھی کم ہے۔ ليکن دولھا کے خاندان والوں کی شکايات پر، جنہيں تمام اخرجات ادا کرنے اور دلہن کے ہر مطالبے کو پورا کرنا ہوتا ہے، حکومت ايسے نئے قوانين وضع کرنے پر کام کر رہی ہے جن کے ذريعے شادی کی تقريبات ميں مہمانوں کی تعداد کو 300 تک محدود کر ديا جائے۔

وزارت قانون کے مشير قاسم ہاشم زئی نے کہا: ’’وزارت قانون ميں اس پر غور کيا جا رہا تھا کہ شادی کے اخراجات کو ضوابط کا پابند بنايا جائے تاکہ دولھا والوں کو بہت زيادہ تکليف نہ اٹھانا پڑے۔ ليکن پھر خاص طور پر بعض ماہرين نے کہا کہ يہ ايک نجی معاملہ ہے اور ہميں پرائيويٹ امور ميں مداخلت نہيں کرنی چاہيے۔‘‘

افغانستان ميں شاديوں کی تقريبات پرتعيش ہوٹلوں يا ہالوں ميں ہوتی ہيں جن ميں ملبوسات، کھانوں اور موسيقی پر بہت زيادہ پيسہ خرچ کيا جاتا ہے۔ دلہن والوں کی طرف سے پوری برادری کو مدعو کيا جاتا ہے۔

کابل ميں ايک شادی کے مہمانتصویر: Reza Sahel

پچھلے سال افغان حکومت نے پر تعيش شاديوں اور جہيز پر پابندی لگا دی تھی جس کا اطلاق صرف کچھ علاقوں پر ہوتا تھا۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو شادی کے ناقابل برداشت اخراجات کی وجہ سے شادی کو ملتوی نہ کرنے کی ترغيب دلانا تھا۔ اس کے بعد سے حکومت شاديوں پر فضول خرچی کو روکنے کے ليے اسی قسم کے قوانين پورے ملک ميں نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

نئے قانون ميں عورتوں کے بغير بازو والے ايسے ملبوسات پر بھی پابندی لگائی جائے گی جن سے جسم بہت کھل جاتا ہے اور جن پر قدامت پسند مسلمان اعتراض کرتے ہيں۔ ناقدين کا کہنا ہے کہ يہ قوانين طالبان کے دور کے ضوابط کی واپسی ہے، جن کے تحت شاديوں کی تقريبات کی نگرانی کی جاتی تھی تاکہ اُن ميں موسيقی کی ممانعت سميت دوسرے اسلامی قوانين کی خلاف ورزی نہ ہو۔

کابل ميں شادی کے ليے ايک ہوٹلتصویر: Musafer

ہاشم زئی نے کہا کہ خود صدر حامد کرزئی کی کابينہ ميں بھی مجوزہ قانون کی کافی مخالفت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اگر پارليمنٹ ميں قانون منظور ہو جاتا ہے تو پھر اس کا نفاذ ممکن ہے ليکن بہت سے لوگوں کا يہ خيال ہے کہ شادی ايک نجی معاملہ ہے اور اس ميں مداخلت نہيں ہونی چاہيے۔‘‘

ہاشم زئی نے يہ بھی کہا کہ عملی طور پر اس قانون کا نفاذ تقريباً نا ممکن ہوگا کيونکہ اس صورت ميں حکومتی اہلکاروں کو ہر شادی ميں شريک ہونا، مہمانوں کی تعداد گننا اور اخراجات کا اندازہ لگانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ بعض لوگ دلہن والوں سے کہيں گے کہ قانون کے تحت آپ ہم سے 300 سے زيادہ مہمانوں کو مدعو کرنے کا مطالبہ نہيں کر سکتے۔ اس طرح کچھ تبديلی تو آ سکتی ہے ليکن ميرے خيال ميں شادی کی تقريبات کی نگرانی بہت مشکل کام ہے۔

sas,aba/Reuters

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں