1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں مصالحتی عمل سے وابستہ توقعات

1 جنوری 2013

افغانستان میں مصالحتی عمل سے وابستہ اعلیٰ عہدیدار محمد معصوم ستانکزئی نے محتاط انداز میں قیام امن کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریق سمجھ گئے ہیں کہ معاملے کا عسکری حل ممکن نہیں۔

تصویر: dapd

ستانکزئی کے بقول کابل حکومت پُرامید ہے کہ طالبان کی مسلح مزاحمت کو ایک سیاسی تحریک میں بدل دیا جائے گا۔ طالبان گزشتہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے امریکا، مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور افغان فوج کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ستانکزئی نے توقع ظاہر کی ہے عسکریت پسندوں کا حقانی نیٹ ورک بھی امن عمل کا حصہ بن جائے گا۔ ستانکزئی کے مطابق شمالی وزیرستان میں قائم یہ گروپ گوریلا کارروائیوں کے حوالے سے خاصا تجربہ کار اور طالبان مزاحمت کا ایک اہم عنصر رہا ہے۔ سابق افغان وزیر جلال الدین حقانی سے منسوب اس نیٹ ورک پر کئی بڑے حملوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

’پیرس مذاکرات میں اتفاق رائے‘

افغان حکومت کے کچھ عہدیداروں اور طالبان کے نمائندوں کے مابین حال ہی میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مذاکرات ہوئے تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے خصوصی گفتگو میں مصالحتی عمل سے وابستہ اس اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ان مذاکرات میں ایک اتفاق رائے یہ تھا کہ کوئی بھی فریق عسکری ذرائع سے فتح حاصل نہیں کرسکتا۔ یاد رہے کہ ستانکزئی ستمبر 2011ء میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں زخمی ہوگئے تھے، اسی حملے میں امن کونسل کے سربراہ، سابق افغان صدر برہان الدین ربانی ہلاک ہوئے تھے۔

افغان امن کونسل کے وفد کی گزشتہ برس پاکستانی حکام سے ملاقات ہوئی تھیتصویر: Farooq Naeem/AFP/Getty Images

مصالحتی عمل کے تحت جاری کوششوں کے بارے میں معصوم ستانکزئی کا کہنا تھا کہ پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے کہ طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کو سیاسی دھارے میں شامل کیا جائے۔ ’’امن عمل کا مقصد یہ ہے کہ ہم تمام افغانوں کو سیاسی عمل کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق یہ عمل محض کچھ لوگوں یا طالبان اور حکومت کے مابین تصفیے سے متعلق نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب کو امن عمل سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ہر ایک کو اسے اپنے پرامن مستقبل کی امید کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

بعض ناقدین اس عمل پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس کے تحت طالبان کو منانے کی کوشش کی جارہی ہے، جو بعد میں خواتین کو میسر موجودہ بہتر حقوق کی صورتحال کو بگاڑ دیں گے۔ اگرچہ افغان سکیورٹی فورسز کا میعار خاصا بلند ہوا ہے تاہم ستانکزئی سمیت کئی حکام کے خیال میں ابھی بہت طویل سفر کرنا ہے، جو 2014ء میں نیٹو کے جنگی مشن کے خاتمے کے بعد افغانستان میں سلامتی کی ضمانت بن سکے۔

’پاکستان کے مثبت اقدامات‘

پاکستان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں حکومت مخالفین کی پشت پناہی کر رہا ہے تاہم اب اسلام آباد حکومت نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے انتہائی مثبت نوعیت کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ کابل حکومت کی درخواست پر کئی افغان طالبان کو رہا کیا جاچکا ہے جو ممکنہ طور پر امن عمل میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار اہم خیال کیا جاتا ہے۔

کابل میں قیام امن کی خاطر نکالی گئی ایک ریلیتصویر: DW/H. Sirat

سابق سوویت یونین کے افغانستان سے انخلاء کے بعد 90ء کی دہائی میں ہندوکش کی یہ ریاست خانہ جنگی اور بدانتظامی کے سبب تباہی و بربادی کا نشان بن گئی تھی۔ خانہ جنگی کے بیشتر فریق سوویت یونین کے خلاف امریکا سے امداد لیتے رہے تھے۔ امریکا اور نیٹو اس مرتبہ البتہ پر عزم ہیں کہ وہ تاریخ نہیں دہرائی جائے گی اور افغانستان کے استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔

محمد معصوم ستانکزئی 2014ء میں آزاد اور شفاف انتخابات کو بھی قیام امن کے سلسلے میں انتہائی اہم خیال کرتے ہیں۔ انتخابات میں بدعنوانی کی روک تھام کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ سیاست دان ہمیشہ اقتدار کے حصول کی جستجو میں رہتے ہیں تاہم گزشتہ دو صدارتی انتخابات کے برعکس اس بار بدعنوانی کے سدباب کی زیادہ فعال کوششیں کی جانی چاہیے۔

(sks/ at (Reuters

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں