افغانستان میں نیا انتخابی قانون منظور
20 جولائی 2013
حامد کرزئی کے دفتر کے مطابق صدر نے رواں ہفتے کے اوائل میں پارلیمان میں منظور کیے جانے والے اُس نئے قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جو انتخابات کے لیے قانونی دائرہ کار طے کرتا ہے۔ اس قانون کو افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے بیرونی ممالک اور تنظیموں کی بھی حمایت حاصل تھی اور یہ بات بڑی حد تک یقینی تصور کی جا رہی تھی کہ کرزئی اس کی توثیق کر دیں گے۔ ابھی جولائی کے اوائل میں چالیس ملکوں کے نمائندوں نے افغانستان کے لیے 16 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا لیکن اس امداد کو دو نئے انتخابی قوانین کی منظوری سے مشروط کر دیا تھا۔
حامد کرزئی نے اُس قانون کی منظوری گزشتہ ہفتے ہی دے تھی، جس میں ملک کے نئے انتخابی نگران ادارے اور الیکشن کمیشن کے کردار اور ڈھانچے کی وضاحت کی گئی ہے۔ ان قوانین پر پارلیمان میں مہینوں بحث ہوتی رہی تھی، جس کے بعد افغانستان کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن نے ان کی حتمی منظوری دے دی تھی۔
افغانستان میں نئے صدر اور ملک کے چونتیس صوبوں کے کونسل ارکان کے لیے انتخابات آئندہ برس پانچ اپریل کو ہوں گے۔ نئے قانون کے تحت لازم ہے کہ صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی اس سال سولہ ستمبر تک جمع کروا دیں۔
کرزئی کے عہدہ صدارت کی دوسری پانچ سالہ مدت آئندہ برس ختم ہو رہی ہے تاہم اس قانون کے تحت وہ تیسری مرتبہ اس عہدے کے لیے امیدوار نہیں بن سکتے۔ ایسے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ انتخابات ملتوی کروانے، اپنے عہدہ صدارت میں توسیع کروانے یا پھر انتخابات کو اپنی مرضی کے مطابق منعقد کروانے کے لیے ان قوانین کی منظوری میں تاخیر سے بھی کام لے سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حامد کرزئی البتہ تیسری مرتبہ صدر بننے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے اور وہ زور دے کر یہ کہہ رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد وہ ریٹائر ہونا چاہیں گے۔ تاہم ایک بات ابھی بھی غیر واضح ہے اور وہ یہ کہ وہ ممکنہ طور پر اپنی پسند کے امیدواروں میں سے کسی ایک کی حمایت کر سکتے ہیں، جن میں اُن کے ایک بھائی بھی شامل ہیں، جو سیاست میں سرگرم ہیں۔
اس سال جون میں افغانستان میں امن و امان کی تمام تر ذمے داریاں غیر ملکی دستوں سے افغان سکیورٹی فورسز کو منتقل ہوچکی ہیں۔ اس کے بعد اڑتالیس ملکوں سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ فوجیوں کے افغانستان سے انخلاء کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اِن میں چھیاسٹھ ہزار امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ رواں سال کے اختتام تک ہی نیٹو دستوں کی تعداد میں نصف کمی ہو چکی ہو گی۔ 2014ء کے اواخر تک تمام جنگی دستے افغانستان چھوڑ چکے ہوں گے اور اُن کی جگہ کہیں چھوٹی ایک ایسی فورس لے چکی ہو گی، جو صرف افغانوں کو تربیت اور مشاورت فراہم کرے گی، بشرطیکہ افغان حکومت اس کی منظوری دے دے۔ جیسے جیسے غیر ملکی دستوں کے انخلاء کا وقت قریب آ رہا ہے، ویسے ویسے طالبان اور دیگر جنگجوؤں کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے بھی تیز تر ہوتے جا رہے ہیں۔