1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کا سرحد کھولنے کا مطالبہ

افسر اعوان اے ایف پی کے ساتھ
4 جنوری 2026

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد سرحدوں کی بندش کو تقریباً تین ماہ بیت چکے ہیں، جس نے پاکستانی طالب علموں، تاجروں اور خاندانوں کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سینکڑوں افراد گھروں کو واپسی کی راہ تک رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن بارڈر
پاک افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کے باعث زمینی راستوں کی بندش کو تقریباً تین ماہ بیت چکے ہیں۔تصویر: Abdul Ghani Kakar/DW

 25 سالہ پاکستانی شہری شاہ فیصل، جو ایک افغان یونیورسٹی میں میڈیکل کے طالب علم ہیں اور سردیوں کی چھٹیوں میں پاکستان اپنے گھر جانے کے خواہش مند تھے، نےخبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''ہمیں اپنے والدین اور رشتہ داروں کی بہت یاد آتی ہے۔‘‘

پاکستان کے 58 فوجی ہلاک کر دیے، افغانستان کا دعویٰ

تجارت کے نئے راستوں کی تلاش، افغانستان کتنا کامیاب ہوا؟

12 اکتوبر سے پاک افغان سرحد کی بندش نے ان جیسے سینکڑوں افراد کے لیے گھر واپسی کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔ فضائی سفر کے ٹکٹ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، جبکہ غیر قانونی راستے استعمال کرنا جان لیوا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔

طلباء کے ایک نمائندے کے مطابق صرفافغانستان کے صوبہ ننگرہار کی یونیورسٹیوں میں تقریباً 500 سے 600 پاکستانی طالب علم موجود ہیں، جو بارڈر کھلنے کے منتظر ہیں۔

پاکستان: سرد موسم میں افغان مہاجرین کی بڑھتی مشکلات

04:46

This browser does not support the video element.

جلال آباد کے میڈیکل کالج میں زیر تعلیم 22 سالہ شاہ فہد امجد نے دونوں حکومتوں سے پر زور مطالبہ کیا کہ 'انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سڑکیں کھولی جائیں‘ تاکہ طالب علم اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔

جیسے جیسے بارڈر کی بندش کا دورانیہ طول پکڑ رہا ہے، وہاں پھنسے پاکستانیوں کو اپنے ویزہ اسٹیٹس اور ختم ہوتے مالی وسائل کی فکر لاحق ہو رہی ہے۔

جلال آباد میں زیر تعلیم 23 سالہ برکت اللہ وزیر بھی ایسے ہی حالات کا شکار ہیں، ''یہ بحران نہ صرف ہم جیسے پاکستانی طالب علموں کے لیے مشکلات کا باعث ہے بلکہ ان افغان طلباء کے لیے بھی سنگین مسئلہ ہے، جو پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘‘

جنوبی ایشیا کے ان دو پڑوسی ممالک کے درمیان نوآبادیاتی دور کی یہ سرحد تقریبا 2,600 کلومیٹر سے زائد طویل ہے، جو دشوار گزار پہاڑی سلسلوں پر محیط ہے۔

ڈیورنڈ لائن کے نام سے مشہور اس سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے لوگوں کے درمیان گہرے ثقافتی، معاشی اور خاندانی روابط موجود ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد سرحدوں کی بندش کو تقریباً تین ماہ بیت چکے ہیں، جس نے پاکستانی طالب علموں، تاجروں اور خاندانوں کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔تصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

پاکستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات دو جنوری کو بتایا کہ تقریباً 1,200 افراد نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کر کے وطن واپسی کے لیے مدد کی درخواست کی ہے، جن میں 549 طلباء بھی شامل ہیں۔

وزارت کے مطابق دسمبر کے آخر تک 300 سے زائد افراد فضائی راستے سے پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں۔

تاہم دونوں ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا کہ پاک افغان بارڈر کب اور کن شرائط پر دوبارہ کھولا جائے گا۔

ادارت: عاطف بلوچ

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں