1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

افغان طالبان دہشت گردوں کی معاونت ترک کر دیں، پاکستانی فوج

29 نومبر 2025

پاکستانی فوجی ترجمان کے مطابق غیر ریاستی عناصر کو پناہ دے کر افغان حکومت پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ قیام امن کے لیے معاہدے میں تیسرے فریق کی شمولیت پر تیار ہے۔

پاکستانی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
پاکستانی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدریتصویر: SA-ZM-230525/Newscom World/IMAGO

پاکستانی مسلح افواج  کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان کی طالبان حکومت سے اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری بند کرے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسنز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے مراکز موجود ہیں، جنہیں وہاں سے اسلحہ اور مالی مدد ملتی ہے اور یہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی کی صحافیوں کے ساتھ یہ ملاقات پچیس نومبر کو ہوئی تھی تاہم اس کی تفصیلات اب جاری کی گئی ہیں۔

جنرل چوہدری کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان حکومت کو سرحد پار سے دہشت گردی کے ایسے ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان نے حال ہی میں کیڈٹ کالج وانا پر حملے سمیت دہشت گردی کی دیگر وارداتوں کے لیے افغان طالبان پر سہولت کار کے الزامات عائد کیے ہیںتصویر: Aamir Qureshi/AFP/Getty Images

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے عالمی برادری کو یقین دلایا تھا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، مگر اس وعدے پر تاحال عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کرے، اور اگر اس سلسلے میں کسی تیسرے فریق کی ضرورت پڑے تو پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ طالبان اس وقت ایسے غیر ریاستی عناصر کو پناہ دے رہے ہیں، جو مختلف ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔

خیال رہے کہ افغان طالبان پاکستان حکومت کے ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ کابل حکومت اسلام آباد کے ساتھ اپنے مذاکرات کی ناکامی کو پاکستانی مذاکرات کاروں کے 'ناقابل عمل‘ مطالبات کو ٹھہراتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش کے بعد طالبان کے وزیر تجارت و صنعت نور الدین عزیزی نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سمتی دیگر اہم بھارتی حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیںتصویر: @MoICAfghanistan X/ANI

پاکستانی فوج کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں رکاوٹیں ہمارے سکیورٹی مفادات اور عوام کی جان و مال کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہیں، خونریزی اورتجارت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

افغان مہاجرین کی باعزت واپسی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 افراد اور 2025 میں اب تک 971,604 افراد واپس بھیجے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف رواں ماہ 239,574 افغان وطن لوٹے ہیں۔

افغان طالبان نے گزشتہ ہفتے پاکستان پر سرحد پار سے افغان صوبے کنٹر میں حملہ کر کے عام شہریوں کو مارنے کا الزام عائد کیاتصویر: Stringer/Anadolu Agency/IMAGO

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ رواں سال مجموعی طور پر 67,023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ خیبر پختونخوا میں 12,857 اور بلوچستان میں 53,309 کارروائیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق اس سال 1,873 دہشت گرد مارے گئے، جن میں 136 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

ادارت: رابعہ بگٹی

ملک میں دہشت گردی افغانستان سے محبت کا شاخسانہ ہے، خواجہ آصف

17:51

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں