افغان طالبان دہشت گردوں کی معاونت ترک کر دیں، پاکستانی فوج
29 نومبر 2025
پاکستانی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان کی طالبان حکومت سے اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری بند کرے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسنز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے مراکز موجود ہیں، جنہیں وہاں سے اسلحہ اور مالی مدد ملتی ہے اور یہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی کی صحافیوں کے ساتھ یہ ملاقات پچیس نومبر کو ہوئی تھی تاہم اس کی تفصیلات اب جاری کی گئی ہیں۔
جنرل چوہدری کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان حکومت کو سرحد پار سے دہشت گردی کے ایسے ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے عالمی برادری کو یقین دلایا تھا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، مگر اس وعدے پر تاحال عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کرے، اور اگر اس سلسلے میں کسی تیسرے فریق کی ضرورت پڑے تو پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ طالبان اس وقت ایسے غیر ریاستی عناصر کو پناہ دے رہے ہیں، جو مختلف ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔
خیال رہے کہ افغان طالبان پاکستان حکومت کے ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ کابل حکومت اسلام آباد کے ساتھ اپنے مذاکرات کی ناکامی کو پاکستانی مذاکرات کاروں کے 'ناقابل عمل‘ مطالبات کو ٹھہراتی ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں رکاوٹیں ہمارے سکیورٹی مفادات اور عوام کی جان و مال کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہیں، خونریزی اورتجارت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
افغان مہاجرین کی باعزت واپسی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 افراد اور 2025 میں اب تک 971,604 افراد واپس بھیجے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف رواں ماہ 239,574 افغان وطن لوٹے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ رواں سال مجموعی طور پر 67,023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ خیبر پختونخوا میں 12,857 اور بلوچستان میں 53,309 کارروائیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق اس سال 1,873 دہشت گرد مارے گئے، جن میں 136 افغان شہری بھی شامل ہیں۔
ادارت: رابعہ بگٹی