1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

افغان طالبان نے ریڈ لائن عبور کر لی ہے، پاکستانی صدر

عاطف بلوچ اے ایف پی، ڈی پی اے، مقامی میڈیا کے ساتھ | ادارت | مقبول ملک
14 مارچ 2026

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستانی شہری علاقوں پر ڈرون حملے کر کے ’’ریڈ لائن عبور کر لی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کو ’’سنگین نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

افغانستان
افغان طالبان کے بقول اسلام آباد کے قریب اور شمال مغربی پاکستانی علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، فائل فوٹوتصویر: AFP

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کابل پر قابض طالبان جنگجوؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ''افغان دہشت گرد حکومت (ایک طرف) ہمارے دوست ممالک سے مذاکرات کی خواہش رکھتی ہے لیکن (دوسری طرف) اس نے ہمارے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ریڈ لائن پار کر لی ہے۔‘‘

پاکستانی صدر کا یہ بیان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اب تک کی سب سے خونریز جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں شروع ہونے والی ان جھڑپوں کے تھمنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، اگرچہ چین اور ترکی کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کوششوں جاری ہیں۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے جمعے کے روز افغان ڈرون حملوں کو روک لیا لیکن گرنے والے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے اور ملک کے دیگر حصوں میں دو افراد زخمی ہوئے۔

جمعے کو افغان طالبان کی حکومت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کابل سمیت مشرقی افغانستان کے کئی علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم چھ شہری ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔

شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا، افغان طالبان

چند گھنٹوں بعد کابل نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے جواب میں اسلام آباد کے قریب اور شمال مغربی پاکستانی علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستانی صدر نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستانی شہری علاقوں پر ڈرون حملے کر کے ’’ریڈ لائن عبور کر لی ہے۔‘‘ فائل فوٹوتصویر: B.K. Bangash/dpa/AP/picture alliance

پاکستان نے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے آپریشنز کا ہدف پاکستانی طالبان اور ان کے نیٹ ورکس ہیں۔ اسلام آباد نے اس تنازعے کو ''کھلی جنگ‘‘ قرار دیا ہے، جس سے عالمی برادری میں خطے کے استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

بالخصوص ایک ایسے وقت پر جب امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران پر حملے کر رہے ہیں جبکہ ایران نے اس جنگ کو مشرق وسطیٰ تک پھیلا دیا ہے۔

افغان حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستانی فضائیہ نے قندھار میں نجی ایئر لائن کام ایئر کے ایک فیول ڈپو کو نشانہ بنایا، جو شہری اور اقوام متحدہ کی پروازوں کو ایندھن فراہم کرتا تھا۔

پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو پناہ دے رہی ہے، جو سرحد عبور کر کے پاکستانی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

پاکستان اس تناظر میں یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ بھارتی حکومت افغان طالبان سے تعاون کر رہی ہے۔ بھارت اور افغان طالبان دونوں ہی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا ہے، ''افغان طالبان حقائق سے زیادہ فرضی کہانیاں گھڑنے میں مصروف ہیں، بجائے اس کے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں، جو ان کی میزبانی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔‘‘

تحمل کا مظاہرہ کیا جائے، چین کی اپیل

چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے جمعے کے روز افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعے کے پرامن حل کی اپیل دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال کشیدگی بڑھاتا ہے اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق وانگ ژی نے افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے گفتگو بھی کی۔ ژی نے کہا کہ چین کا خصوصی ایلچی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں کر رہا ہے تاکہ تحمل کا رویہ اپنایا جائے اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔

متقی نے کہا ہے کہ افغانستان خطے میں امن چاہتا ہے اور جنگ نہیں چاہتا اور یہ کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے چین سے مزید فعال کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کی۔

گزشتہ اکتوبر میں قطر کی جانب سے کرائی گئی جنگ بندی نے یہ کشیدگی عارضی طور پر کم کر دی تھی لیکن بعد ازاں ترکی میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے پر منتج نہ ہو سکے تھے۔

پاکستان کے حملوں کا ہدف طالبان قیادت؟

02:29

This browser does not support the video element.

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں