1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستافغانستان

افغان طالبان نے پاکستان کے بیان کو غیر ذمہ دارنہ قرار دے دیا

صلاح الدین زین اے پی، اے ایف پی کے ساتھ
7 جنوری 2026

افغان طالبان نے حکومت سے متعلق پاکستانی فوج کے بیانات کی مذمت کی ہے۔ ان کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے سیاسی ڈھانچے پر کی گئی نکتہ چینی نا صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ ایک ذمہ دار عسکری منصب کے تقاضوں سے بھی متصادم ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد
ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دیں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو سفارتی دائرہ کار سے باہر ہوںتصویر: Ali Khara/REUTERS

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز پاکستان کے فوجی ترجمان کے بیانات کو’’غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور بے بنیاد پروپیگنڈا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افغانستان کی زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

سوشل میڈيا ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے فوجی ترجمان احمد شریف چوہدری کی جانب سے افغانستان کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے سے متعلق تبصروں کو ’’حقائق سے برعکس‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانات ایک ذمہ دار فوجی عہدے کے شایان شان نہیں۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کی حساسیت کا حوالہ دیتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دیں اور ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جو سفارتی دائرہ کار سے باہر ہوں۔

 ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جو ایک مضبوط سکیورٹی ڈھانچے اور مقتدر قیادت کا حامل ہے اور اپنی پوری سرزمین پر مکمل حاکمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے داخلی معاملات پر تبصرے اور ’’دھمکی آمیز زبان‘‘ کا استعمال افغان عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز ہی ایک پریس کانفرنس میں احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 2025 میں پاکستان کی اولین ترجیح سکیورٹی ، بالخصوص انسدادِ دہشت گردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجودہ انتظامی ڈھانچہ ایک باقاعدہ ’’حکومت‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا اور انہوں نے  طالبان کی حکومت کو ایک ’’عبوری انتظامیہ‘‘ کے طور پر پیش کیا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر اردو زبان میں لکھا ہے کہ پاکستان کے متعلقہ اداروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمے دارانہ طرز عمل اور سنجیدہ بیانات کی روش اختیار کریں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان احمد شریف نے عسکریت پسند گروپوں پر افغان سرزمین استعمال کرنے اور بھارت پر ان کی پشت پناہی کا الزام لگایا۔تصویر: SA-ZM-230525/Newscom World/IMAGO

پاکستانی فوجی ترجمان نے کیا کہا تھا؟

واضح رہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ اس معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیے جانے کی شرط شامل ہے۔ تاہم، ان کا دعویٰ تھا کہ اس وقت افغانستان میں دہشت گرد گروہ اور کالعدم تنظیمیں موجود ہیں اور خطے میں یہ ملک دہشت گرد سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔

انہوں نے عسکریت پسند گروپوں پر افغان سرزمین استعمال کرنے اور بھارت پر ان کی پشت پناہی کا الزام لگایا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ’’وار اکانومی‘‘ (جنگی معیشت) کو دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا اور افغانستان میں چھوڑے گئے تقریبا سوا سات ارب ڈالر کے جدید امریکی اسلحے کے استعمال پر بھی سوال اٹھائے۔

چوہدری نے کہا کہ دوحہ معاہدے کے باوجود وعدے پورے نہیں ہوئے، ’’نہ تو کوئی نمائندہ حکومت بنی اور نہ ہی افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور شام سے آئے 2500 غیر ملکی دہشت گرد افغانستان سے کام کر رہے ہیں۔

افغان طالبان اس نوعیت کے الزامات کو بار بار مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ وہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف خطرات یا حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ادارت: عدنان اسحاق

ملک میں دہشت گردی افغانستان سے محبت کا شاخسانہ ہے، خواجہ آصف

17:51

This browser does not support the video element.

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں