افغان قيادت کا دورہٴ يورپ، مستقبل کا لائحہ عمل زير غور
1 دسمبر 2014
افغان صدر اشرف غنی اور چيف ايگزيکيٹو عبداللہ عبداللہ آج بيلجيئم کے دارالحکومت برسلز پہنچ رہے ہيں۔ غنی اور عبداللہ يکم دستمبر پير کے روز مغربی دفاعی اتحاد نيٹو کے ہيڈکوارٹرز کا دورہ کر رہے ہيں، جہاں وہ ادارے کے سربراہ ينس اسٹولٹن برگ کے ساتھ ملاقات کريں گے۔ بعد ازاں يہ دونوں افغان رہنما نيٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے منگل کو ہونے والے اجلاس ميں بھی شرکت کريں گے۔ افغان صدر اور چيف ايگزيکيٹو بدھ کے روز برطانوی دارالحکومت لندن روانہ ہوں گے، جہاں وہ متعدد اعلیٰ عہديداروں کے ساتھ ملاقاتيں اور پھر جمعرات کو وہاں ہونے والی ايک ڈونرز کانفرنس ميں شرکت کريں گے۔
يہ امر اہم ہے کہ 2001ء سے 2014ء تک افغانستان کے صدر کے طور پر ذمہ دارياں سنبھالنے والے حامد کرزئی کے دور ميں کابل حکومت اور نيٹو کے تعلقات کچھ کھچاؤ کا شکار تھے۔ تاہم موجودہ صدر اشرف غنی نے رواں برس اقتدار سنبھالتے ہی تعلقات ميں بہتری کی کوششيں کی ہيں۔ برسلز روانگی سے ايک روز قبل غنی نے اپنے ايک بيان ميں کہا تھا کہ نيٹو کے ساتھ ملاقاتوں ميں افغان قيادت ملک کے مستقبل کے بارے ميں پر اعتماد انداز ميں گفتگو کرے گی۔ ان کے بقول افغانستان، امريکا اور نيٹو کے درميان اب کوئی شکوک و شبہات يا عدم اعتماد نہيں۔
افغانستان کے ليے نيٹو کے مشن ميں رواں برس کے اختتام پر واضح تبديلياں رونما ہو رہی ہيں۔ اب تک يہ بنيادی طور پر لڑاکا مشن تھا تاہم يکم جنوری 2015ء سے اس کا کام مشاورت و تربيت تک محدود ہو جائے گا۔ 2010ء ميں ايک وقت افغانستان ميں تعينات غير ملکی فوجيوں کی تعداد 130,000 تھی، جو اکتيس دسمبر سے صرف ساڑھے بارہ ہزار کے لگ بھگ رہ جائے گی۔ افغان طالبان کے خلاف کارروائيوں کی مرکزی ذمہ داری اب افغان پوليس اور فوج کے ذمے ہے۔
دريں اثناء اسی ہفتے جمعرات کو برطانوی دارالحکومت ميں افغانستان کے ليے ايک امدادی کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے۔ کابل ميں تعينات برطانوی سفير رچرڈ اسٹيگ نے نيوز ايجنسی اے ايف پی کو بتايا کہ لندن کانفرنس اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو يہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ اپنے آپ کو افغانستان ميں تبديلی کے ليے ايک قوت کے طور پر منوا سکيں۔ انہوں نے مزيد کہا کہ يہ کانفرنس اس ليے بھی اہم ہے کيونکہ يہ کابل حکومت کے ليے اپنے ملک ميں اصلاحات متعارف کرانے کے ليے حکمت عملی بيان کرنے کا ايک موقع ثابت ہو گی۔ اسٹيگ کے بقول اس کانفرنس کے ذريعے بين الاقوامی برادری بھی افغانستان کے ساتھ اپنی طويل المدتی پارٹنرشپ کو تقويت فراہم کر سکے گی۔