1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اقتصادی بحران پر فوری قابو پانا مشکل ہے، اوباما

Adnan Ishaq25 مارچ 2009

باراک اوباما کے مطابق مالیاتی بحران کا مسئلہ آج کا نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس پر قابو پانے میں بھی وقت لگے گا۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اس لئے پوری قوم کو متحد ہو کراس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

تصویر: AP

امریکی صدر باراک اوباما نے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی قوم کو اقتصادی بحران سے باہر نکال لیں گے۔ ساتھ ہی اوباما نے اس عزم کا بھی اظہارکیا کہ کساد بازاری سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کیا۔ بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا مالیاتی بحران کا مسئلہ آج کا نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس پر قابو پانے میں بھی وقت لگے گا۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اس لئے پوری قوم کو متحد ہو کراس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

ساتھ ہی اوباما نے اپنے 3,6 ارب ڈالر کے مجوزہ بجٹ کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ کے ساتھ ساتھ ایک حکمت عملی بھی ہے جس کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع، قرضوں کی فراہمی کو دوبارہ ممکن بنانے اورمعیشت کو مزید ترقی دی جائے گی اور یہ ہمیشہ کی خوشالی کے لئے بنیاد فراہم کرے گا۔

اوباما کے ٹیلیویژن خطاب کے دوران کا منظرتصویر: AP

باراک اوباما امریکی معیشت کو ایک ایسی بنیاد فراہم کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگلے 20 برسوں تک امریکہ کو اس طرح کے مالیاتی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑ ے۔ ساتھ ہی اوباما کو یقین ہے کہ کانگریس ان کی انتظامیہ کے ساتھ مالیاتی اداروں کی سخت نگرانی کے حوالے سے تعاون کرے گی۔ اوباما کو بجٹ کے حوالے سے ریپبلکن کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ نمائندوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔


باراک اوباما نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اقتصادی بحران کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہی پالیسیوں کی وجہ سے آج ڈالرایک مستحکم پوزیشن پر ہے۔ اوباما نے اپنی پریس کانفرنس میں چین کی ڈالر کے مقابلے میں ایک عالمی کرنسی کی تجویز کو رد کر دیا۔ ان کے خیال میں عالمی کرنسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

تصویر: AP


دوسری جانب امریکی وزیر مالیات Timothy Geithner اورمرکزی بینک کے سربراہ Ben Bernanke نے زور دیا ہے کہ تمام مالیاتی اداروں کی سخت نگرانی کی جائے۔ Geithner نے امریکی کانگریس سے کہا کہ وہ حکومت کو اختیاردے کہ وہ بڑے بڑے گھروں کو سرکاری تحویل میں لے سکے تا کہ مالیاتی اداروں کو دیوالیہ ہونے پر بڑے نقصانات سے بچایا جا سکے۔ امریکی کمپنی AIG کے مینیجرزکو بونس کی مد میں دیئے جانے والی خطیر رقوم کے معاملے پرانہوں نے کہا کہ وہ ان ادائیگیوں کو روکنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بونس قانونی طور پر دیئے گئے ہیں اوریہ حکومت کے عمل دخل سے قبل ہی کمپنیوں کے معاہدوں میں شامل تھے۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں