1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اقوام متحدہ کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے گا، یورپی یونین

ندیم گِل8 ستمبر 2013

یورپی یونین نے کہا ہے کہ دمشق میں گزشتہ ماہ کے کیمیائی حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے گا۔ اس بات پر بھی زور دیا گیاکہ اگلا قدم اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت ہی اٹھایا جانا چاہیے۔

تصویر: PETRAS MALUKAS/AFP/Getty Images

یہ بات بالٹک ریاست لیتھوینیا کے دارالحکومت ولنیس میں ہفتے کو یورپی یونین کے 28 رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں سامنے آئی۔ اس موقع پر یورپی حکام نے دمشق میں گزشتہ ماہ کیے گئے کیمیائی حملے کے لیے بشار الاسد کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے تاہم شام کے خلاف امریکی سربراہی میں عسکری کارروائی کی حمایت نہیں کی ہے۔

یورپی وزراء نے زور دیا کہ شام کے خلاف کسی بھی کارروائی کا فیصلہ کرنے سے پہلے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ ولنیس میں اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق یورپی یونین ردِ عمل کے فیصلے میں اقوام متحدہ کا کردار دیکھنا چاہتی ہے۔

یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین ایشٹن نے اجلاس کے بعد بیان پڑھتے ہوئے کہا: ’’ایسے جرائم کو ناقابلِ قبول ٹھہرانے کے لیے واضح اور ٹھوس ردِ عمل ناگزیر ہے اور اس حوالے سے کوئی استثنیٰ نہیں ہو سکتا۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’’یورپی یونین اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ اس کے ساتھ ہی شام کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے تحت آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور کیتھرین ایشٹنتصویر: picture-alliance/dpa

متعدد یورپی ملک بشار الاسد کے خلاف عسکری کارروائی کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ جرمنی سمیت بعض دیگر ملکوں نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ آنے سے قبل کسی بھی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے رپورٹ آئندہ ہفتے کے آخر تک سامنے آ سکتی ہے۔ انہوں نے جنوب مشرقی شہر نیس میں اپنے لبنانی ہم منصب میشال سلیمان سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا: ’’کانگریس (امریکی) کی جانب سے جمعرات یا جمعے کو ووٹنگ مکمل ہونے اور معائنہ کاروں کی رپورٹ آنے کے بعد، جو آئندہ ہفتے کے آخر تک متوقع ہے، فیصلہ کیا جائے گا جو ممکنہ طور پر یہ معاملہ اقوام متحدہ (سلامتی کونسل) کے سامنے رکھنے کے بعد کیا جا سکتا ہے۔‘‘

دوسری جانب ہفتے کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے فرانسیسی ہم منصب لاراں فابیوس کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ وہ یورپی ملکوں کی انتظار کی خواہش صدر باراک اوباما تک پہنچا دیں گے۔

انہوں نے کہا: ’’بالکل اس نکتے پر بات چیت ہو گی (اور) ہم مشاورت کے ساتھ فیصلہ کریں گے، (لیکن) صدر فیصلہ کرنے کے سے حق سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔‘‘

اُدھر ویٹیکن سٹی میں ہفتے کی شب شام میں امن کے لیے ایک دعائیہ اجتماع منعقد کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس میں تقریباﹰ ایک لاکھ عبادت گزاروں نے شرکت کی۔ یہ عبادت کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کی اس اپیل کے ردِ عمل میں منعقد کی گئی تھی جس میں انہوں نے شام میں امن کے لیے ہفتے کو دنیا بھر میں خصوصی عبادتیں منعقد کرنے کے لیے کہا تھا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں