1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

البانیہ: پارلیمانی الیکشن میں فریقین کے کامیابی کے دعوے

24 جون 2013

یورپ کے قدرے پسماندہ ملک البانیہ میں اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حکمران اور اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں نے کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ دیگر یورپی اقوام کو البانوی جمہوری اقدار پر تشویش ہے۔

تصویر: DW/A. Muka

سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ایدی راما کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے پاس پولنگ کی مناسبت سے جو اعداد و شمار حاصل ہوئے ہیں، اس کے مطابق ان کی پارٹی الیکشن میں کامیابی کی دہلیز پار کر چکی ہے۔ ایدی راما نے وزیر اعظم سالی بیریشا سے کہا ہے کہ وہ اقتدار کی منتقلی کے لیے تیار رہیں۔ بحیرہ ایڈریاٹک کے کنارے آباد سابقہ کمیونسٹ ریاست میں ڈاکٹر سالی بیریشا مسلسل دو مرتبہ الیکشن جیت کر حکومت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ماہر امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر سالی بیریشا سن 2005 سے البانیہ کے وزیراعظم چلے آ رہے ہیں۔

البانیہ کے انتخابات میں حکومت اور اپوزیشن نے کامیابی کے دعوے کیے ہیںتصویر: DW/A. Muka

البانوی دارالحکومت تیرانہ میں سوشلسٹ پارٹی کے صدر دفتر کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما ایدی راما نے حکمران جماعت کو ڈالے گئے ووٹوں کی بابت کوئی ذکر نہیں کیا۔ تیرانہ میں پولنگ کے بعد مکمل ہونے والے ایگزٹ پول میں بھی متضاد اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کس سیاسی پارٹی کو جیت حاصل ہوئی ہے۔ دوسری جانب حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیئر رہنما اور رکنِ پارلیمان ماژلیندا بریغو کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ عوام کی اکثریت نے ان کے انتخابی اتحاد کو کامیاب کیا ہے۔

البانیہ کے سینٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈالے گئے ووٹوں کے حوالے سے کوئی بھی اعلان نہیں کیا گیا ہے اور اس باعث ڈیموکریٹک پارٹی اور سوشلسٹ پارٹی کے ورکروں میں بےچینی کے علاوہ تناؤ بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ شمال مغربی لاک علاقے میں دونوں پارٹیوں کے ورکروں کے درمیان ہونے والے تنازعے میں فائرنگ کا تبادلہ بھی کیا گیا اور اس باعث سوشلسٹ پارٹی کا ایک ورکر ہلاک اور ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک کارکن زخمی ہوا ہے۔

ووٹنگ بظاہر پرامن رہی اور نوجوانوں کی شرکت اہم تھیتصویر: DW/A. Muka

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں بڑی پارٹیوں کے کامیابی کے دعوے ان کی ریلیوں کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ البانیہ میں ووٹوں کی گنتی کے معاملے پر دیگر مغربی ملک عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ یورپی سفارتکاروں کے مطابق اس انداز کی گنتی کے دوران مختلف تنازعات کے جنم لینے اور ان کے حل کی وجہ سے حتمی نتیجے کو مرتب کرنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے البانوی مرکزی الیکشن کمیشن کو عملے کی کمی کا سامنا ہے۔ یورپی یونین نے بھی اتوار کے انتخابات کو یونین میں شولیت کے عمل کے لیے اہم قرار دے رکھا ہے۔

ایسا بھی خیال کیا جاتا ہے کہ سن 1991 میں کمیونسٹ حکومت کے زوال کے بعد سے البانیہ میں شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد نہیں ہو سکا ہے۔ اتوار کے روز ہونے والے الیکشن میں سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ایدی راما کو ایک چھوٹی بائیں بازو کی پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے اور اسی بنیاد پر وہ کامیابی کا احساس رکھتے ہیں۔ یہ بائیں بازو کی سیاسی پارٹی پہلے وزیراعظم بیریشا کی حلیف تھی۔ دونوں سیاسی جماعتیں یورپی یونین میں البانیہ کی شمولیت کی حامی ہیں۔

جمہوریہ البانیہ جنوب مشرقی یورپی ملک ہے۔ اس کے دارالحکومت کا نام تیرانہ ہے جو ملک کا سب سے بڑا شہر اور سماجی و اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ البانیہ کی آبادی 2.8 ملین کے لگ بھگ ہے۔ اس ملک میں اڑتیس برس تک کمیونسٹ اور سوشلسٹ اقدار کی جابرانہ حکومت قائم رہی۔ اس دور میں اس کے سربراہ انور ہاؤزا تھے۔ البانیہ یورپ کا اکثریتی مسلمان آبادی کا ملک ہے۔ اس میں مسلمانوں کی تعداد 59 فیصد سے زائد بنتی ہے۔ مسیحی آبادی سولہ فیصد سے زائد ہے۔ البانیہ ایک زرعی ملک ہے اور اب اس میں سیاحت بھی مقبول ہو رہی ہے۔

(ah/ng(Reuters, AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں