1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہافریقہ

الجزائر میں 'افریقہ کی سب سے بڑی مسجد' کا افتتاح

27 فروری 2024

الجزائر کی اس عظیم مسجد کو مکّہ اور مدینہ کی مساجد کے بعد دنیا کی سب سے بڑی مسجد بتایا جارہا ہے۔ معزول صدر عبدالعزیز بوطفلیکہ کے منصوبے پر شروع کی گئی اس مسجد کی تعمیر کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دارالحکومت میں واقع اس عظیم الشان مسجد کا مینار 869 فٹ بلند ہے
دارالحکومت میں واقع اس عظیم الشان مسجد کا مینار 869 فٹ بلند ہےتصویر: Anis Belghoul/AP Photo/picture alliance

الجزائر میں اتوار کے روز اس مسجد کا افتتاح ہو گیا، جسے افریقہ کی سب سے بڑی مسجد اور دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تعمیر کے دوران یہ تنازعات کا بھی شکار رہی ہے۔

دارالحکومت میں واقع اس عظیم الشان مسجد کا مینار 869 فٹ بلند ہے اور اس میں نمازیوں کے لیے ایک بہت بڑا ہال بھی ہے۔ الجزائر کی سرکاری میڈیا کے مطابق اس مسجد میں ایک وقت میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد نمازیوں کے لیے گنجائش ہے۔

الجزائر: دنیا کی ایک بڑی مسجد زیر تعمیر، مینار بلند ترین

صدر عبدالمجید تبون نے مسجد کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مسلم علماء کی عالمی یونین کے جنرل سکریٹری علی محمد سلابی نے کہا کہ یہ مسجد مسلمانوں کو "نیکی اور اعتدال کی طرف" رہنمائی کرے گی۔

مسجد کا افتتاح ایسے وقت ہوا ہے جب رمضان کے مہینے کی آمد آمد ہے اور اس مہینے میں مسلمان نسبتاً زیادہ بڑی تعداد میں مسجدوں میں نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

صدر عبدالمجید تبون نے مسجد کا افتتاح کیاتصویر: Algerian Presidency Office/APAimages/IMAGO

یہ مسجد متنازع کیوں ہے؟

یہ مسجد مرحوم معزول صدر عبدالعزیز بوطفلیکہ کے دماغ کی اپج تھی، جنہیں سن 2019 میں احتجاجی مظاہروں کے بعد عہدے سے معزول کردیا گیا تھا۔

بوطفلیکہ الجزائر کے پڑوسی اور علاقائی حریف مراکش کے کاسابلانکا میں واقع مسجد حسن ثانی کی طرز پر ایک مسجد تعمیر کرانا چاہتے تھے، تاکہ انہیں یاد رکھا جائے۔

الجزائر:کووڈ بندشوں کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ

اس مسجد کا افتتاح فروری 2019 میں ہونا تھا لیکن احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے انہیں اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا اور ان کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

مسجد کی تعمیر شروع ہونے سے قبل اس کے جائے وقوع پر بھی تنازع ہوگیا کیونکہ ماہرین نے خبر دار کیا تھا کہ یہ ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ مسجد کی تعمیر میں بدعنوانی کاشبہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کی سرکاری لاگت 898 ملین ڈالر تھی۔

مسجد کی تعمیر کا منصوبہ سن 2011 میں ایک چینی تعمیراتی کمپنی اور فرینکفرٹ میں واقع تعمیراتی کمپنی کے پی ایس اینجل نے تیار کیا تھا۔ اینجل کی ویب سائٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی تعمیر کو سن 2020 میں حتمی شکل دے دی گئی تھی۔

اس مسجد کے بارے میں دنیا کو بتایا گیا کہ یہ مکہ میں مسجد الحرام اور مدینہ میں مسجد نبوی کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد ہے۔ یہ مسجد تقریباً 70 ایکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔

کولون میں جرمنی کی سب سے بڑی مسجد سے اسپیکر پر اذان آج سے

اس مسجد کی ایک خاص بات اس کا بلند ترین مینار ہے جہاں سے پورے دارالحکومت کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

ج ا/ ص ز (اے پی، ڈی پی اے)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں