الجزائر کی اس عظیم مسجد کو مکّہ اور مدینہ کی مساجد کے بعد دنیا کی سب سے بڑی مسجد بتایا جارہا ہے۔ معزول صدر عبدالعزیز بوطفلیکہ کے منصوبے پر شروع کی گئی اس مسجد کی تعمیر کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دارالحکومت میں واقع اس عظیم الشان مسجد کا مینار 869 فٹ بلند ہےتصویر: Anis Belghoul/AP Photo/picture alliance
اشتہار
الجزائر میں اتوار کے روز اس مسجد کا افتتاح ہو گیا، جسے افریقہ کی سب سے بڑی مسجد اور دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تعمیر کے دوران یہ تنازعات کا بھی شکار رہی ہے۔
دارالحکومت میں واقع اس عظیم الشان مسجد کا مینار 869 فٹ بلند ہے اور اس میں نمازیوں کے لیے ایک بہت بڑا ہال بھی ہے۔ الجزائر کی سرکاری میڈیا کے مطابق اس مسجد میں ایک وقت میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد نمازیوں کے لیے گنجائش ہے۔
صدر عبدالمجید تبون نے مسجد کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مسلم علماء کی عالمی یونین کے جنرل سکریٹری علی محمد سلابی نے کہا کہ یہ مسجد مسلمانوں کو "نیکی اور اعتدال کی طرف" رہنمائی کرے گی۔
مسجد کا افتتاح ایسے وقت ہوا ہے جب رمضان کے مہینے کی آمد آمد ہے اور اس مہینے میں مسلمان نسبتاً زیادہ بڑی تعداد میں مسجدوں میں نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
صدر عبدالمجید تبون نے مسجد کا افتتاح کیاتصویر: Algerian Presidency Office/APAimages/IMAGO
یہ مسجد متنازع کیوں ہے؟
یہ مسجد مرحوم معزول صدر عبدالعزیز بوطفلیکہ کے دماغ کی اپج تھی، جنہیں سن 2019 میں احتجاجی مظاہروں کے بعد عہدے سے معزول کردیا گیا تھا۔
بوطفلیکہ الجزائر کے پڑوسی اور علاقائی حریف مراکش کے کاسابلانکا میں واقع مسجد حسن ثانی کی طرز پر ایک مسجد تعمیر کرانا چاہتے تھے، تاکہ انہیں یاد رکھا جائے۔
اس مسجد کا افتتاح فروری 2019 میں ہونا تھا لیکن احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے انہیں اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا اور ان کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔
مسجد کی تعمیر شروع ہونے سے قبل اس کے جائے وقوع پر بھی تنازع ہوگیا کیونکہ ماہرین نے خبر دار کیا تھا کہ یہ ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ مسجد کی تعمیر میں بدعنوانی کاشبہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کی سرکاری لاگت 898 ملین ڈالر تھی۔
مسجد کی تعمیر کا منصوبہ سن 2011 میں ایک چینی تعمیراتی کمپنی اور فرینکفرٹ میں واقع تعمیراتی کمپنی کے پی ایس اینجل نے تیار کیا تھا۔ اینجل کی ویب سائٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی تعمیر کو سن 2020 میں حتمی شکل دے دی گئی تھی۔
اس مسجد کے بارے میں دنیا کو بتایا گیا کہ یہ مکہ میں مسجد الحرام اور مدینہ میں مسجد نبوی کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد ہے۔ یہ مسجد تقریباً 70 ایکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔
اس مسجد کی ایک خاص بات اس کا بلند ترین مینار ہے جہاں سے پورے دارالحکومت کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔
دنیا کی بڑی مساجد ایک نظر میں
یورپ کی سب سے بڑی مسجد روس میں واقع ہے اور اس کا افتتاح گزشتہ برس کیا گیا تھا۔ اس روسی مسجد میں ایک وقت میں دس ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا کی دیگر بڑی مساجد کی تصاویر دیکھیے، اس پکچر گیلری میں۔
تصویر: Reuters/M. Zmeyev
مسجد الحرام
مکہ کی مسجد الحرام کو عالم اسلام کی اہم ترین مساجد میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ ساڑھے تین لاکھ مربع میٹر پر تعمیر کی جانے والی یہ مسجد دنیا کی سب سے بڑی مسجد بھی ہے۔ یہ مسجد سولہویں صدی میں قائم کی گئی تھی اور اس کے نو مینار ہیں۔ خانہ کعبہ اسی مسجد کے مرکز میں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کئی مرتبہ اس عمارت میں توسیع کی جا چکی ہے اور آج کل اس میں دس لاکھ افراد ایک وقت میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dAP Photo/K. Mohammed
مسجد نبوی
مسجد الحرام کے بعد مسجد نبوی اسلام کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے۔ اس مسجد میں پیغمبر اسلام کی آخری آرام گاہ بھی موجود ہے۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد سن 622ء میں رکھا گیا تھا۔ اس میں چھ لاکھ افراد کی گنجائش ہے اور اس کے میناروں کی اونچائی ایک سو میٹر ہے۔
تصویر: picture-alliance/epa
یروشلم کی مسجد الاٰقصی
مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مذہبی مقام ہے اور یہ یہودیوں کے مقدس ترین مقام ٹیپمل ماؤنٹ کے ساتھ ہی واقع ہے۔ گنجائش کے حوالے سے اس مسجد میں صرف پانچ ہزار افراد ہی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس مسجد کا سنہری گنبد دنیا بھر میں خاص شہرت رکھتا ہے۔ اس مسجد کا افتتاح سن 717ء میں ہوا تھا۔
تصویر: picture alliance/CPA Media
حسن دوئم مسجد، مراکش
مراکش کے شہر کاسابلانکا کی یہ مسجد مراکش کے باشادہ شاہ حسن سے موسوم ہے۔ کاسابلانکا کو دار البیضاء بھی کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کا افتتاح 1993ء میں شاہ حسن کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس کا مینار 210 میٹر اونچا ہے، جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔
تصویر: picture alliance/Arco Images
ابو ظہبی کی شیخ زید مسجد
2007ء میں تعمیر کی جانے والی یہ مسجد دنیا کی آٹھویں بڑی مسجد ہے۔ اس مسجد کا طرز تعمیر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے گنبد کا قطُر 32 میٹر کے برابر ہے اور اسے دنیا کا سب سے بڑا گنبد بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پانچ ہزار مربع میٹر پر بچھایا ہوا قالین ہاتھوں سے بُنا گیا ہے، جو اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا قالین ہے۔
تصویر: imago/T. Müller
روم کی مسجد
اطالوی دارالحکومت روم کیتھولک مسیحیوں کا مرکز کہلاتا ہے لیکن اس شہر میں ایک بہت بڑی مسجد بھی ہے۔ تیس ہزار مربع میٹر پر پھیلی ہوئی یہ مسجد یورپ کی سب بڑی مسلم عبادت گاہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس مسجد کے احاطے میں اٹلی کا اسلامی مرکز قائم ہے اور یہاں پر ثقافتی اجتماعات کے ساتھ ساتھ سنی اور شیعہ مسالک کی مذہبی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/akg-images
گروزنی کی احمد قدیروف مسجد
چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی کی مرکزی مسجد جمہوریہٴ چیچنیا کے سابق صدر اور روسی مفتی احمد قدیروف سے موسوم ہے۔ احمد قدیروف 2004ء میں ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس مسجد کی تعمیر کو چیچنیا میں ہونے والی خانہ جنگی کی وجہ سے کئی مرتبہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔ اس عبادت گاہ کو ایک ترک کمپنی نے تعمیر کیا ہے اور اس کا افتتاح 2008ء میں کیا گیا۔ یہ مسجد زلزلہ پروف ہے۔
روسی جمہوریہٴ تاتارستان کی یہ مسجد روسی قبضے سے قبل کے کازان کے آخری امام کی یاد دلاتی ہے۔ اس مسجد کے پڑوس میں ایک آرتھوڈوکس کلیسا بھی قائم ہے اور یہ دونوں عبادت گاہیں تاتارستان میں آرتھوڈوکس اور مسلمانوں کے پر امن بقائے باہمی کی علامت ہیں۔ 2005ء میں نو سال تک جاری رہنے والی تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران اس مسجد کو وسعت دی گئی تھی۔