1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امريکی وزير خارجہ چيک جمہوريہ ميں

3 دسمبر 2012

امريکی وزير خارجہ نے آج سے اپنے يورپ کے دورے کا آغاز کر ديا ہے۔ اس دورے کے افتتاحی روز کلنٹن چيک جمہوريہ ميں ہيں، جس کے بعد وہ برسلز ميں اپنی پاکستانی ہم منصب اور پاکستان کے آرمی چيف سے ملاقات کريں گی۔

تصویر: dapd

خبر رساں ادارے روئٹرز نے امريکی اہلکاروں کے حوالے سے بتايا ہے کہ وزير خارجہ ہليری کلنٹن ترکی ميں پيٹرياٹ نامی ميزائل دفاعی نظام کی تنصيب کے سلسلے ميں پُر اميد ہيں۔ رواں ہفتے منگل اور بدھ کے روز برسلز ميں مغربی دفاعی اتحاد نيٹو کے اٹھائيس رکن ممالک کا اجلاس ہوگا اور کلنٹن کو اس بات کی توقع ہے کہ اس اجلاس ميں ميزائلوں کے تنصيب کے معاملے ميں پيش رفت ہوگی۔ واضح رہے کہ ترکی کی جانب سے اس سلسلے ميں باضابطہ طور پر درخواست کی جا چکی ہے۔ انقرہ حکام کے مطابق شام کی جانب سےکسی ممکنہ حملے سے نمٹنے کے ليے يہ اقدام ناگزير ہے۔ واضح رہے کہ روس ترکی کی سرحد پر ميزائلوں کی ممکنہ تنصيب سے خوش نہيں ہے اور توقع ہے کہ روسی وزير خارجہ سیرگئی لاؤروف اجلاس ميں اپنے تحفظات کا اظہار کريں گے۔

اس سلسلے ميں ہليری کلنٹن نے مزيد کہا کہ اس اجلاس ميں شام ميں ’نو فلائی زون‘ کے قيام پر بات نہيں ہوگی۔ واضح رہے کہ اگلے ہفتے مراکش ميں منعقدہ فرينڈز آف سيريا کے ايک اجلاس ميں شام ميں ’نو فلائی زون‘ کے قيام پر بات چيت متوقع ہے۔

ميزائل دفاعی نظام پيٹرياٹتصویر: dapd

دريں اثناء امريکی وزير خارجہ نے کہا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے کيميائی ہتھياروں کا ممکنہ استعمال اوباما انتظاميہ کے ليے’ريڈ لائن‘ کی حيثيت رکھتا ہے، جسے عبور کرنے کی صورت ميں امريکا کی جانب سے فوری رد عمل کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کلنٹن نے يہ بيان چيک جمہوريہ ميں دارالحکومت پراگ سے جاری کيا۔ تاہم انہوں نے شام ميں کيميائی ہتھياروں سے متعلق تازہ سرگرمیوں کے حوالے سے زيادہ بات نہيں کی۔

دوسری جانب کلنٹن آج برسلز ميں پاکستانی وزير خارجہ حنا ربانی کھر اور آرمی چيف جنرل اشفاق پرويز کيانی سے ملاقات کريں گی۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درميان دو طرفہ تعلقات ميں آنے والی بہتری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ برسلز کے بعد کلنٹن آئرلینڈ بھی جائیں گی۔

آج اپنے يورپی دورے کے پہلے دن کلنٹن نے پراگ حکام سے توانائی پالیسی پر تبادلہ خیال کيا۔ رپورٹس کے مطابق کلنٹن کو جمہوريہ چيک کے ايک ايٹمی پلانٹ ميں توسيع کے ليے قريب دس بلين ڈالر لاگت کے ايک منصوبے کے ليے امريکی کمپنی ’ونسٹنگ ہاؤس اليکٹرک‘ کی جانب سے پيشکش کرنی تھی۔ واضح رہے کہ چیک جمہوریہ کی توانائی کا زیادہ تر دار و مدار روسی برآمدات پر ہے۔

(as/ij (Reuters

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں