امریکا: بگولے نے تباہی مچا دی، درجنوں ہلاک
21 مئی 2013
اوکلاہوما شہر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پیر کی دوپہر کو چلنے والے اس بگولے نے سب سے زیادہ تباہی مور نامی علاقے میں مچائی، جہاں درجنوں مکانات اور دیگر عمارتوں کے ساتھ ساتھ دو اسکول بھی تباہ ہو گئے۔ متاثرہ علاقوں میں سرچ اور ریسکیو کا آپریشن جاری ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ امدادی کارروائیاں تمام رات جاری رہیں گی۔ امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق امدادی کارکنوں نے متعدد بچوں کو ملبے سے نکال لیا ہے۔ طبی ذرائع کے بقول دس افراد کی حالت تشوتش ناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 145 افراد کا علاج جاری ہے، جن میں 70 بچے بھی شامل ہیں۔ اس بگولے کے ساتھ 200 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوا چلی اور اس کا حیطہ ایک میل قطر پر مبنی تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اس بگولے کی زد میں آنے والی عمارتوں کی چھتیں اور وہاں کھڑی گاڑیاں ہوا میں اڑتی ہوئی دور جا گریں۔ محکمہء موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مزید بگولے چلنے کا خدشہ ہے۔
امریکی نیوز ٹیلی وژن چینل سی این این کے مطابق اس بگولے سے مچنے والی تباہی کے نتیجے میں متعدد بچے بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مور میں واقع پلازہ ٹاورز ایلیمنٹری اسکول کی عمارت تباہ ہونے کے بعد سے چوبیس بچے ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ اطلاعات ہیں کہ بیس بچے مارے گئے ہیں۔ اس بگولے کی وجہ سے بجلی کا نظام معطل ہو گیا ہے جب کہ گیس اور پانی کی فراہمی بھی رک گئی ہے۔
اوکلاہوما کی گورنر میری فالن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں اور روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر باراک اوباما نے انہیں بھروپور مدد کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی اضافی مدد کی ضرورت پڑے تو ان سے براہ راست رابطہ کیا جائے۔ واشنگٹن میں حکام نے بتایا ہے کہ صدر اوباما کو تازہ ترین صورتحال سے باخبر رکھا جا رہا ہے۔
میری فالن نے اتوار کے دن ہی اوکلاہوما کی 16کاونٹیز میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اتوار کے دن وہاں چلنے والے زور دار جھکڑوں کی وجہ سے بھی دو افراد مارے گئے تھے۔ میری فالن نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالخصوص مور کے لوگ زیادہ محتاط رہیں کیوں کہ وہاں مزید بگولے چلنے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
ab/at(AFP, AP. dpa)