1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکا دنیا پر اپنا تسلط چاہتا ہے، روس

امتیاز احمد21 جنوری 2015

صدر باراک اوباما کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پر روس کی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ ماسکو حکومت کے مطابق تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا خود کو ’نمبر ون‘ سمجھتا ہے اور دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے۔

Schweiz Ministerratstreffen der OSZE in Basel Russland Sergej Lawrow
تصویر: Reuters/A. Wiegmann

امریکی صدر باراک اوباما نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں یوکرائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اصول یہ ہے کہ بڑی قومیں کسی بھی طرح چھوٹی قوموں کو ڈرا نہیں سکتیں‘‘۔ صدر اوباما نے یہ بھی کہا تھا کہ یوکرائن میں ان کا ملک روسی جارحیت کے خلاف جمہوریت کی حمایت کر رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا تھا، ’’امریکا مضبوط ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ متحد کھڑا ہے جبکہ روس الگ تھلگ ہو کر رہ گیا ہے اور اس کی معیشت کی دھجیاں بکھر گئیں ہیں۔‘‘

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف کا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ امریکیوں نے تصادم کا راستہ اختیار کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے اقدامات کا تنقیدی جائزہ سرے سے لیا ہی نہیں۔‘‘ روسی وزیر خارجہ کا گزشتہ روز باراک اوباما کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی فلسفے کا مرکزی نقطہ ایک ہی ہے کہ ’’وہ پہلے نمبر پر ہیں اور باقی سب کو یہ تسلیم کرنا چاہیے‘‘۔ لاوروف کے مطابق ’’یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی تمنا رکھتا ہے۔‘‘ روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ فلسفہ اب پرانا ہو چکا ہے اور جدید حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ مرحلہ بھی گزر جائے گا لیکن امریکا کو یہ سوچنے میں ابھی وقت لگے گا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو کم جارحانہ بنائے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’میں تمام ملکوں کے لیے یہ پسند کروں گا کہ وہ تعاون کی پالیسی اپنائیں۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ روس اور امریکا کے تعلقات اس قدر نچلی سطح تک پہنچے چکے ہیں۔ تعلقات میں خرابی کی بنیادی وجہ یوکرائن کا تنازعہ بنا ہے، جس کی وجہ سے مغربی ممالک اور امریکا کھل کر روس کی مخالفت کر رہے ہیں اور روس کے خلاف پابندیاں بھی عائد کی جا چکی ہیں۔ روسی وزیر خارجہ کے مطابق 2014ء میں ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات ’’حقیقی معنوں میں بگڑے‘‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور شام کے معاملے میں بھی ’’تعمیری تعاون‘‘ ہونا چاہیے۔ روسی وزیر خارجہ نے مغرب پر دوہرا معیار رکھنے کا بھی الزام عائد کیا۔

سیرگئی لاوروف کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ روس کسی بھی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتا، ’’ہم نئی سرد جنگ کا نہ تو آغاز کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس کی اجازت دیں گے۔‘‘

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں