امریکی ریاست کیلی فورنیا میں اپنے ہی گھر میں اپنے اپنے پلنگ پر بندھے 13 بہن بھائیوں کو پولیس نے چھڑا لیا ہے، جب کہ ان کے والدین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس ان بچوں پر کیے جانے والےمبینہ تشدد کی تفتیش کر رہے ہیں۔
تصویر: Reuters/M. Blake
اشتہار
پولیس کے مطابق جب اہلکار اس گھر میں داخل ہوئے تو ان میں سے کچھ بچوں کو اندھیرے میں پلنگ کے ساتھ بندھا ہوا پایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس گھر سے متعلق خبر اس وقت ہوئی، جب اتوار کے روز 17 سالہ بچی اس گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی اور اس نے پولیس کو فون کر دیا۔
پولیس کے مطابق فون کرتے ہوئے یہ بچی اس قدر پریشان تھی کہ ابتدا میں انہیں لگا کہ اس کی عمر دس برس ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کال کے بعد پولیس نے کیلی فورنیا کے علاقے پیریس میں واقع اس گھر پر چھاپہ مارا اور یہاں انہیں دو سے 29 برس کے دیگر 12 بہن بھائی ملے۔
عمر رسیدہ خواتین ماں بننے کے قابل
02:57
This browser does not support the video element.
مقامی کاؤنٹی شیرف کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گھر میں موجود بعض بچے زنجیروں اور رسیوں سے بندھے ہوئے تھے اور گھر کے اندر کے حالات کچھ مشکوک تھے جب کہ والدین ان بچوں کو اس طرح جکڑنے کی کوئی منطقی وجہ نہیں بتا پائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اہلکاروں کو پتا چلا تھا کہ گھر کے اندر 12 بچے موجود ہیں، تاہم یہ بات باعث حیرت تھی کہ اس گھر میں موجود سات بہن بھائی بالغ بھی تھے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ بہن بھائی کم خوراکی کا شکار تھے اور انتہائی گندی حالت میں تھے۔
سولہ دسمبر سن دو ہزار چودہ کا سورج غروب ہوا تو پاکستان بھر کو سوگوار اور آبدیدہ چھوڑ گیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان کے ہاتھوں بچوں کے قتلِ عام کی گزشتہ تین سالوں میں مذمت عالمی سطح پر کی گئی۔
تصویر: DW/F. Khan
اسکول کی دیوار، بربریت کی گواہ
طالبان کی بندوقوں سے نکلی گولیوں نے اسکول کی دیواروں کو بھی چھلنی کر دیا۔
تصویر: Reuters/F. Aziz
امدادی کارروائیاں
اسکول میں حملے کی اطلاع ملتے ہی پاکستان کی فوج نے بچوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کی کارروائی شروع کر دی۔
تصویر: Reuters/K. Parvez
اپنے پیاروں کی میت اٹھانا مشکل
ایک شخص امدادی کارکن کے ساتھ بیٹے کا تابوت اٹھاتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
تصویر: Reuters/K. Parvez
آنسو بھی حوصلہ بھی
آرمی پبلک اسکول حملے میں زخمی ہونے والے ایک طالبِ علم کے رشتہ دار ایک دوسرے کو تسلی دیتے رہے۔
تصویر: Reuters/F. Aziz
خود محفوظ لیکن ساتھیوں کا غم
ایک طالب علم جسے حفاظت سے باہر نکال لیا گیا تھا، اندر رہ جانے والے اپنے ساتھیوں کے لیے اشکبار تھا۔
تصویر: Reuters/K. Parvez
علی محمد خان اب نہیں آئے گا
سانحہ پشاور میں طالبان کی گولیوں کا نشانہ بننے والے علی خان کی والدہ کو قرار کیسے آئے۔
تصویر: Reuters/Z. Bensemra
سیاہ پٹی اور سرخ گلاب
پاکستان بھر میں بچوں نے گزشتہ برس بازوؤں پر سیاہ پٹی اور ہاتھ میں سرخ گلاب تھام کر طالبان کی بربریت کا شکار ہونے والے اپنے ساتھیوں کی یاد منائی تھی۔
تصویر: Reuters/A. Soomro
دنیا بھر میں احتجاج
نیپال کے دارالحکومت کھٹمندو کی ایک خاتون نے اپنے انداز میں پشاور حملے پر احتجاج کیا۔
تصویر: Reuters/Navesh Chitrakar
بھارتی بچے بھی سوگ میں شامل
بھارت کے شہر متھرا میں اسکول کے بچوں نے سانحہ پشاور میں ہلاک ہونے والے بچوں کے لیے دعا کی۔
تصویر: Reuters/K. K. Arora
روشن قندیلیں
پاکستان میں سول سوسائٹی اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد آج کے دن ہر سال سانحہ پشاور میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمیں روشن کرتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/Zumapress/R. S. Hussain
10 تصاویر1 | 10
پولیس دفتر کے مطابق ان بچوں کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ بے انتہا بھوکے ہیں، جس پر انہیں خوراک اور مشروبات پیش کیے گئے۔
اس واقعے کے بعد 57 سالہ والد ڈیوڈ لوئیس ٹُرپِن اور 49 سالہ والدہ لوزی آنا ٹُرپِن کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے بچوں پر تشدد اور ان کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے جیسے الزامات کے تحت تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق انہیں ضمانت پر رہائی کے لیے نو ملین ڈالر درکار ہوں گے۔