امریکا فریق نہ بنے، چین
4 ستمبر 2012
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اسی ہفتے چین پہنچ رہی ہیں۔ وہ اس وقت ایشیا پیسیفک ممالک کے دورے پر ہیں۔ اس دوران چین اور خطے میں امریکی حلیف ممالک جیسے کے فلپائن اور جاپان کے درمیان تنازعہ بحیرہ جنوبی چین پر بھی بات ہو گی۔ اس حوالے بیجنگ حکومت نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس تنازعے میں فریق نہ بنے۔
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک جانب امریکا چین کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف متنازعہ موضوعات پر چین مخالف موقف کی حمایت کرتا ہے۔ ’’ امریکی سیاستدان چین سے تمام تر فائدے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ دوہری پالیسی نہیں چلے گی۔‘‘
ہلیری کلنٹن کے ساتھ اس دورے میں شریک امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کی طرف سے بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے کے حوالے سے ایک کوڈ آف کنڈکٹ بنانے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ کلنٹن بدھ پانچ ستمبر کو بیجنگ پہنچیں گی۔
سنہوا میں شائع ہونے والی ایک اداریے میں امریکا کو مسائل پیدا کرنے والا ایک ایسا خاموش کردار کہا گیا، جو باہر سے بیٹھ کر خطے میں اپنے حلیفوں کو کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرتا ہے۔ یہ تنقید انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے حامی اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکا دنیا بھر میں اپنی برتری قائم کرنے میں لگا ہوا ہے۔
ai / Km (AFP)