1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’امریکا نے یورپی یونین کی بھی جاسوسی کی‘

شادی خان سیف30 جون 2013

امریکی حکومت کے متنازعہ جاسوسی پروگرام ’پرزم‘ سے متعلق تازہ انکشافات کے مطابق یورپی یونین کے افسران اور کمپیوٹر نظام پر بھی نظر رکھی گئی تھی۔

تصویر: spiegel.de

معتبر جرمن جریدے ڈیئر شپیگل نے امریکی قومی سلامتی کے ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی سال 2010ء کی ’ٹاپ سیکرٹ‘ دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے۔ شپیگل کے مطابق سابق امریکی انٹیلی جنس اہلکار ایڈورڈ سنوڈن یہ دستاویزات اپنے ساتھ نکال لائے تھے۔ یاد رہے کہ متنازعہ ’پرزم‘ منصوبے کا راز سنوڈن نے ہی فاش کیا جب انہوں نے ہانگ کانگ پہنچ کر ذرائع ابلاغ کو یہ خفیہ انداز میں یہ معلومات فراہم کر ڈالی تھیں۔

شپیگل کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے ادارے نے نہ صرف واشنگٹن اور اقوام متحدہ میں یورپی یونین کے اندرونی کمپیوٹر نظام میں ’داخل ہو کر معلومات چرائی‘ بلکہ یورپی اہلکاروں کی ٹیلی فون کالز بھی سُنیں جبکہ دستاویزات اور ای میلز تک بھی خفیہ انداز میں رسائی حاصل کر رکھی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس ’ٹاپ سیکرٹ‘ دستاویز میں یورپی یونین کو واضح طور پر ’ہدف‘ لکھا گیا ہے۔

ایڈورڈ سنوڈنتصویر: Reuters

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے ان انکشافات کے بارے میں فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شُلز نے واضح کر دیا ہے کہ اگر یہ باتیں درست ثابت ہوگئیں تو اس سے امریکا اور یورپی یونین کے تعلقات پر ’شدید اثرات‘ مرتب ہوں گے۔ ایک ای میل بیان میں مارٹن شُلز نے امریکی حکام سے جامع وضاحت اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

یورپی ملک لکسمبرگ کے وزیر خارجہ جین ایزلبورن نے جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو امریکی حکومت کا یہ قابل نفرت کام ہے۔ روئٹرز کے مطابق سنوڈن کے انکشافات نے امریکا کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر حقوق خلوت اور قومی سلامتی کے تعلق سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی کے سربراہ کیتھ الیکزینڈرتصویر: Saul Loeb/AFP/Getty Images

امریکی حکام نے لاطینی امریکی ملک ایکواڈور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سنوڈن کو سیاسی پناہ نہ دیں۔ واشنگٹن حکومت کا موقف ہے کہ سنوڈن نے یہ انکشافات کرکے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ 30 سالہ سنوڈن گزشتہ کئی دنوں سے ماسکو کے ہوائی اڈے میں منتظر ہیں کہ ایکواڈور کی حکومت ان کی سیاسی پناہ کی درخواست بابت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ یاد رہے کہ وکی لیکس کے بانی جولیان آسانج کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جنہوں نے خفیہ امریکی سفارتی کیبلز کو عام کر دیا تھا اور اب لندن میں قائم ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ڈیئر اشپیگل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی قومی سلامتی ایجنسی نے برسلز میں قائم یورپی یونین کے دفتر کے مواصلاتی نظام پر بھی نظر رکھی ہوئی تھی۔ اس جریدے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ پانچ برس قبل یورپی یونین کئی مسڈ کالز کی جب جانچ کی تو ان کے تانے بانے برسلز ہی میں قائم مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ہیڈکوارٹر میں موجود امریکی قومی سلامتی ایجنسی کے دفتر سے جا ملے تھے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں