امریکا یورپی یونین میں ’مضبوط‘برطانیہ کا حامی ہے، اوباما
18 جنوری 2013
برطانیہ میں سیاسی سطح پر یورپی یونین میں برطانوی رکنیت کے مستقبل کے حوالے سے دو طرح کی آراء ہیں۔ امریکی صدر اوباما نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ٹیلی فون پر یہ گفتگو ایک ایسے موقع پر کی ہے، جب کیمرون یورپی یونین میں برطانیہ کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم تقریر کرنے جا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے AFP کے مطابق کیمرون اور اوباما کے درمیان گفتگو کا اصل مدعا تو الجزائر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمالی بنائے گئے امریکی، برطانوی اور دیگر یورپی باشندوں کا تھا تاہم اس گفتگو میں امریکی صدر اوباما نے کہا کہ امریکا یورپ میں اپنے اس قریبی اتحادی کی پوزیشن کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ الجزائر میں امریکی اور برطانوی یرغمالیوں کے حوالے سے صدر اوباما اور ڈیوڈ کیمرون کی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی اور اس گفتگو میں صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ امریکا مضبوط یورپی یونین میں مضبوط برطانیہ کا حامی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں یہ بحث جاری ہے کہ مستقبل میں برطانیہ کو یورپی یونین کے ساتھ کس طرح کے تعلقات رکھنے چاہیں جبکہ کچھ سیاستدان یہ بیانات بھی دیتے نظر آتے ہیں کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے۔ ڈیوڈ کیمرون کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ یورپی یونین میں برطانیہ کی موجودگی خود برطانیہ کے لیے انتہائی مفید ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ یورپی یونین کا رکن تو ہے، تاہم وہ یونین کے کرنسی معاہدے یورو اور سرحدوں سے متعلق معاہدے شینگن کا حصہ نہیں ہے۔
اس سلسلے میں برطانوی وزیراعظم کو انتہائی اہم تقریر جمعے کو روز کرنا تھی، تاہم الجزائر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمالی بنا لیے جانے والے برطانوی شہریوں کی وجہ سے کیمرون کو اپنی یہ تقریر مؤخر کرنا پڑی۔
برطانیہ کی کوشش ہے کہ وہ برسلز کو حاصل کچھ اختیارات واپس لے لے اور برطانیہ میں سن 2015ء کے عام انتخابات کے بعد یورپی یونین کی رکنیت کے حوالے سے ملک میں ریفرنڈم کروائے۔
(at/ab (AFP