ایران سے نمٹنا ضروری مگر کیسے؟ امریکہ ۔ اسرائیل اختلاف
17 فروری 2026
حالیہ ایرانی مظاہروں، امریکی پابندیوں اور ٹرمپ–نیتن یاہو رابطوں کے بعد یہ اختلافات مزید واضح ہو گئے ہیں۔ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ نمائندے شرکت کریں گے۔
ایران پر دباؤ کی حکمتِ عملی میں واشنگٹن اور تل ابیب میں اختلاف
امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی ایران کے جوہری پروگرام، میزائل پروگرام اور خطے میں اتحادی ملیشیا کے تہران کے زیر کنٹرول نیٹ ورک کو سلامتی کے لیے اہم خطرہ سمجھتے ہیں۔ جرمن میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ کار رضا طالبی کے مطابق، اس نکتے پر امریکہ اور اسرائیل کے مابین کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے۔ طالبی نے ڈوئچے ویلے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا چاہتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرورسوخ مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔
تاہم، اختلافات اس سوال سے شروع ہوتے ہیں کہ یہ ہدف کیسے حاصل کیا جائے اور کون سے خطرات قابل قبول ہیں۔
امریکہ کے لیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں، ایران کے ساتھ ایک نئے معاہدے تک پہنچنا سب سے اہم ہے۔ واشنگٹن اس مقصد کو ''زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی حکمت عملی کے ذریعے حاصل کر رہا ہے، جس میں اقتصادی پابندیوں اور فوجی ڈیٹرانس دونوں عناصر شامل ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی اور سلامتیامور کی ماہر اور تجزیہ کار شکریا برادوست کے مطابق ایرانکے حوالے سے امریکی پالیسی واضح طور پر ایک نئے معاہدے کی جانب گامزن ہے۔ واشنگٹن میں مقیم ماہر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے، واشنگٹن بڑے پیمانے پر اقتصادی پابندیوں، خاص طور پر ایرانی تیل کی فروخت پر انحصار کر رہا ہے۔‘‘ مقصد یہ ہے کہ تہران حکومت کے ذرائع آمدن کو منظم طریقے سے کم سے کم کیا جائے اور اسے ہر طرح کی معاشی سہولت سے محروم رکھا جائے۔ اس پالیسی کا مقصد کسی بڑی علاقائی جنگ کو شروع کیے بغیر ایران کو دور رس رعایتیں دینے پر آمادہ کرنا ہے۔
فوجی ذرائع اس حکمت عملی میں معاون کردار ادا کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی اور فوجی اختیارات پر زور بنیادی طور پر رکاوٹ کا کام کرتا ہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر ممکنہ ''ریجیم چینج‘‘ یا ''حکومت کی تبدیلی‘‘ کے بارے میں قیاس آرائیاں کی ہیں، شکریا برادوست کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی حملہ واشنگٹن کے لیے صرف آخری حربہ ہے۔
امریکہ طویل جنگوں اور ایران پر قبضے کو مسترد کرتا ہے۔ برادوست کے خیال میں امریکہ کا اقتدار کی جبری تبدیلی کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔
سیاسی اور اسٹریٹیجک ضمنی مفادات
امریکہ اور اسرائیل کے اختلافات کو وسیع تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ نیتن یاہو کے بار بار امریکی دوروں نے نہ صرف ایران سے متعلق پالیسی کی بحث کو متاثر کیا ہے بلکہ اسرائیل کی عالمی ساکھ بھی کمزور ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ساکھ میں کمی سے واشنگٹن کی ایران کے خلاف کسی بڑی اسرائیلی فوجی کارروائی کی غیر مشروط حمایت میں بھی کمی آئی ہے۔
اسی دوران، امریکہ کے لیے علاقائی اور عالمی استحکام زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ واشنگٹن کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ اپنے یورپی اتحادیوں، توانائی کی منڈیوں اور ممکنہ علاقائی کشیدگی کا بھی خیال رکھنا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے امریکی نقطۂ نظر میں ایران سے ایک محدود معاہدہ وقتی امن اور بڑے تصادم کو روکنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، چاہے اس سے اسرائیل کے تمام تحفظاتی خدشات دور نہ ہوں۔
ادارت: جاوید اختر