1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستامریکہ

امریکہ میں سفید فام مردوں کے ساتھ بھی تفریقی سلوک ہوتا ہے؟

جاوید اختر (اے پی، اے ایف پی)
19 دسمبر 2025

صدر ٹرمپ جو پہلے ہی کئی مثبت امتیازی اقدامات کی پالیسیوں کو واپس لے چکے ہیں۔ یہ ان کے دورِ حکومت میں تنوع، مساوات اور شمولیت کے اقدامات کے لیے تازہ ترین دھچکا ہے۔

اینڈریا لوکاس
اینڈریا لوکاس ایکوئل ایمپلائمنٹ اپرچونٹی کمیشن کی چیئرپرسن بننے کے بعد سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنوع مخالف پالیسیوں کی حمایت اور وکالت کرتی آ رہی ہیںتصویر: Mariam Zuhaib/AP Photo/picture alliance

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفید فام مردوں سے کہہ رہی ہے کہ اگر انہیں کام کی جگہ پر نسلی یا صنفی تفریق کا سامنا کرنا پڑا ہو تو وہ اس کی رپورٹ کریں۔

ایکوئل ایمپلائمنٹ اپرچونیٹی کمیشن (ای ای او سی) کی قائم مقام چیئرپرسن اینڈریا لوکاس نے سفید فام مردوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملازمت کے دوران تفریقی سلوک سے متعلق دعوے دائر کریں۔

اینڈریا لوکاس نے جمعرات کو ایکس پر لکھا، ''کیا آپ ایک سفید فام مرد ہیں جسے کام کی جگہ پر نسل یا جنس کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘

انہوں نے لکھا، ''آپ کے پاس وفاقی شہری حقوق کے قوانین کے تحت مالی معاوضہ حاصل کرنے کا دعویٰ ہو سکتا ہے۔‘‘

’’ای ای او سی ہر قسم کے نسلی اور صنفی امتیاز کی نشاندہی، اس کے خلاف کارروائی اور اس کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، جس میں سفید فام مرد ملازمین اور امیدواروں کے خلاف تفریق بھی شامل ہے۔‘‘

لوکاس کی یہ پوسٹ نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایک مضمون شیئر کیے جانے کے تقریباً دو گھنٹے بعد سامنے آئی، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ''حکومت میں تنوع، مساوات اور شمولیت کی برائی اور اس کے نتائج کو بیان کرتا ہے۔‘‘

ٹرمپ کے دور میں ای ای او سی میں تبدیلی

جنوری میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے تنوع، مساوات اور شمولیت کے اقدامات کو ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ ایسی پالیسیاں نافذ کرنے والی کمپنیاں امریکہ  کی سفید فام اکثریت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ایکوئل ایمپلائمنٹ اپرچونیٹی کمیشن ایک وفاقی ادارہ ہے جو1964 کے سول رائٹس ایکٹ کے تحت کام کی جگہ پر صنفی اور نسلی امتیاز سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

ڈی ای آئی اپنی ویب سائٹ پر اب ای ای او سی سے متعلق تفریقی سلوک زور دے رہا ہے۔

جنوری میں ای ای او سی کی قائم مقام چیئر مقرر ہونے اور بعد ازاں نومبر میں باقاعدہ چیئر بننے کے بعد اینڈریا لوکاس نے ادارے کی توجہ اس جانب موڑ دی ہے جسے وہ ڈی ای آئی سے متاثرہ ''غیر قانونی، نسلی اور صنفی امتیاز کے خاتمے” کا نام دیتی ہیں۔ یہ مؤقف صدر ٹرمپ کے ڈی ای آئی مخالف صدارتی احکامات سے ہم آہنگ ہے۔

لوکاس کی قیادت میں ای ای او سی اس بات پر توجہ دے رہا ہے جسے وہ امریکی کارکنوں کے خلاف تفریق قرار دیتا ہے۔

گزشتہ ماہ ایک بیان میں انہوں نے کہا، ''بہت سے آجر ایسی پالیسیاں اور طریقہ کار اپنائے ہوئے ہیں جن میں غیر قانونی تارکینِ وطن، مہاجر مزدوروں یا غیر ملکی مہمان کارکنوں (گیسٹ ورکر ویزا ہولڈرز) کو امریکی کارکنوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ جو وفاقی ملازمت کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمہرسٹ کی ایک تحقیق کے مطابق، ای ای او سی میں شکایات درج کرانے والے افریقی نژاد امریکی ملازمین کی تعداد اپنے سفید فام ساتھیوں کے مقابلے میں 195 گنا زیادہ ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال خواتین کی اوسط آمدن مردوں کی آمدن کا تقریباً 85 فیصد تھی۔

ادارت: صلاح الدین زین

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں