امریکہ نے افغانستان کو ’غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دے دیا
10 مارچ 2026
امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے منگل 10 مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پیر کی رات افغانستان کو 'غلط حراست‘ یا wrongful detention کا تعاون کنندہ ملک قرار دے دیا جبکہ اس سے مختلف ایک علیحدہ پیش رفت میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے الزام لگایا کہ کابل میں طالبان انتظامیہ 'یرغمال بنانے کے ذریعے سفارت کاری‘ یا hostage diplomacy پر عمل پیرا ہے۔
پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں 56 افغان شہری ہلاک، اقوام متحدہ
امریکی محکمہ خارجہ نے غلط یا بے جا طور پر حراست میں لینے کے عمل کے حوالے سے افغانستان کی اب جو باقاعدہ درجہ بندی کر دی ہے، اس میں ایران پہلے ہی سے شامل ہے۔ واشنگٹن حکومت کی طرف سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پہلے ایران اور اب افغانستان کو ایسے ممالک قرار دیا جا چکا ہے، جو اس لیے امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیتے ہیں کہ بعد میں امریکی پالیسیوں کے لحاظ سے اپنے لیے چھوٹ حاصل کرنے کی کوششیں کر سکیں۔
ایران کو ایسا ملک ستائیس فروری کو قرار دیا گیا
جہاں تک امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے افغانستان سے پہلے ایران کو 'غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دیے جانے کا تعلق ہے، تو واشنگٹن حکومت نے یہ فیصلہ 27 فروری کو کیا تھا، امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے جانے والے ان فضائی حملوں سے صرف ایک روز قبل، جو مشرق وسطیٰ کی اس تازہ ترین جنگ کی وجہ بنے، جو ابھی تک جاری ہے۔
پا کستان کی کابل پر بمباری: ’ہمیں لگا زلزلہ آگیا ہے‘
نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران اور افغانستان کی ایسے ممالک کے طور پر درجہ بندی کا مقصد تہران اور کابل پر اس مقصد کے تحت دباؤ بڑھانا ہے کہ وہ امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کا سلسلہ بند کریں یا پھر تادیبی اقدامات کے لیے تیار رہیں۔
'دہشت گردانہ ہتھکنڈوں‘ کا استعمال قابل مذمت، مارکو روبیو
اس حوالے سے پیر ہی کی شام امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے ایک بیان میں افغانستان کے بارے میں کہا، ''(کابل میں) طالبان ابھی تک امریکی پالیسیوں میں اپنے لیے رعایتیں حاصل کرنے یا تاوان کے لیے لوگوں کو اغوا کرنے جیسے دہشت گردانہ ہتھکنڈوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ قابل مذمت ہتھکنڈے لازمی طور پر ختم ہونا چاہییں۔‘‘
ساتھ ہی مارکو روبیو نے کہا، ''امریکی شہریوں کے لیے افغانستان کا سفر محفوظ نہیں ہے۔ اس لیے کہ طالبان ابھی تک امریکہ اور دیگر ممالک کے شہریوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لینے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کابل میں طالبان انتظامیہ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ فوری طور پر ان امریکی شہریوں کو رہا کریں، جن کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں۔
ویمنز ایشین کپ: افغان فٹبالرز کے خوابوں کا نیا سنگ میل
ان میں ڈینس کوائل نامی وہ امریکی تعلیمی محقق بھی شامل ہیں، جو جنوری 2025ء سے طالبان کے قبضے میں ہیں۔ ان کے علاوہ افغانی نژاد امریکی بزنس مین محمود حبیبی ایک ایسے کنٹریکٹر ہیں، جو کابل میں ایک ٹیلیکوم کمپنی کے لیے کام کرتے تھے اور 2022ء میں اچانک لاپتا ہو گئے تھے۔ حبیبی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں۔
افغان طالبان پر 'یرغمال بنانے کے ذریعے سفارت کاری‘ کا الزام
نیو یارک سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کل پیر کی شام اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے عالمی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے اپنے خطاب میں الزام لگایا کہ کابل میں طالبان انتظامیہ 'یرغمال بنانے کے ذریعے سفارت کاری‘ کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ مائیک والٹز نے اس کے لیے انگریزی میں 'ہوسٹیج ڈپلومیسی‘ کے الفاظ استعمال کیے۔
ساتھ ہی اس امریکی سفیر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ہندوکش کی اس ریاست میں طالبان خواتین کے بنیادی حقوق کی بھی عملاﹰ نفی کر رہے ہیں، تو پھر اسی ملک کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لیے ایک بلین ڈالر مہیا کیے جانے کی کوششوں کا کیا مطلب ہے؟
طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی میں تبدیل کر دیا ہے، پاکستانی وزیر دفاع کا الزام
مائیک والٹز کے الفاظ میں، ''ہم کسی ایسے گروپ کے ساتھ کوئی اعتماد سازی بھلا کیسے کر سکتے ہیں، جو بے گناہ امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیتا ہے اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات تک کو مسلسل نظر انداز کرتا آ رہا ہے۔‘‘
کابل میں طالبان انتظامیہ کا ردعمل
افغاستان سے متعلق امریکی حکومت کے اس تازہ ترین اقدام کے ردعمل میں کابل میں طالبان کی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ہندوکش کی اس ریاست کی ’’غلط حراست کے معاون ملک‘‘ کے طور پر درجہ بندی ’’افسوسناک‘‘ ہے۔
افغانستان میں کم از کم 70 عسکریت پسند ہلاک کیے، پاکستان
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ واشنگٹن نے افغانسدتان میں زیر حراست امریکی شہریوں کی رہائی کا جو مطالبہ کیا ہے، کابل حکومت اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش مند ہے۔
ادارت: شکور رحیم